🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب فضل النفقة والصدقة على الاقربين والزوج والاولاد والوالدين ولو كانوا مشركين:
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1000 ترقیم شاملہ: -- 2319
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی۔ (اعمش نے) کہا: میں نے (یہ حدیث) ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے مجھے ابوعبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، بالکل اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، اور کہا: انہوں (زینب رضی اللہ عنہا) نے کہا: میں مسجد میں تھی (اس دروازے پر جو مسجد میں تھا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بلال رضی اللہ عنہ کے بتانے پر) مجھے دیکھا تو فرمایا: ’صدقہ کرو، چاہے اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔‘ اعمش نے باقی حدیث ابواحوص کی (مذکورہ بالا) روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2319]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت ہی مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں مسجد میں تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: (صدقہ) کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے سہی۔ آگے ابو احوص کی مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1000
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زينب بنت عبد الله الثقفيةصحابي
👤←👥عمرو بن الحارث الخزاعي
Newعمرو بن الحارث الخزاعي ← زينب بنت عبد الله الثقفية
صحابي
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عمرو بن الحارث الخزاعي
ثقة
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي
ثقة
👤←👥زينب بنت عبد الله الثقفية
Newزينب بنت عبد الله الثقفية ← إبراهيم النخعي
صحابي
👤←👥عمرو بن الحارث الخزاعي
Newعمرو بن الحارث الخزاعي ← زينب بنت عبد الله الثقفية
صحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عمرو بن الحارث الخزاعي
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عمر بن حفص النخعي، أبو حفص
Newعمر بن حفص النخعي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
👤←👥أحمد بن يوسف الأزدي، أبو الحسن
Newأحمد بن يوسف الأزدي ← عمر بن حفص النخعي
حافظ ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2319 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2319
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت زینب کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نفلی صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اس کے خاوند کو دینے کی بھی اجازت دی حالانکہ بیوی کے نان و نفقہ کا ذمہ دار خاوند ہے اس لیے اس کو ملنے والا صدقہ بیوی پر بھی خرچ ہو گا اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوہرے اجر کا باعث قرار دیا ہے اسی پر فرضی صدقات کو قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ان رشتہ داروں کو دیے جا سکتے ہیں جن کے نان و نفقہ کا انسان پابند یا ذمہ دار نہیں ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ صاحبین (امام ابو یوسف،
امام محمد)
اہل ظاہر اور ایک قول کی رو سے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بیوی خاوند کو زکاۃ دے سکتی ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کی رو سے نفلی صدقہ دے سکتی ہے فرضی صدقہ دینا جائز نہیں ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صدقہ کے عموم سے استدلال کیا ہے کہ اس میں نفلی و فرضی کی تخصیص نہیں ہے اس لیے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2319]

Sahih Muslim Hadith 2319 in Urdu