🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب إعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام وتصبر من قوي إيمانه:
باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1059 ترقیم شاملہ: -- 2438
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثله، إلا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالُوا: نَصْبِرُ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے اپنے چچا سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور اسی طرح حدیث بیان کی، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (انصار) نے کہا: ہم صبر کریں گے۔ جس طرح یونس نے زہری سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
امام صاحب ایک دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «سَنَصْبِرُ» کی جگہ «نَصْبِرُ» ہے، ہم صبر کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1059
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن عبد الله الزهري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الزهري ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← محمد بن عبد الله الزهري
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2438 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2438
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض دفعہ اپنے امیر یا بزرگ کے فعل کے اندر جو حکمت اور مصلحت ہوتی ہے انسان اپنی نوخیزی یا ناتجربہ کاری اور کم عقلی کی بنا پر سمجھ نہیں سکتا اس لیے وہ کام انسان کے نزدیک قابل اعتراض یا غیر مناسب ہوتا ہے لیکن جب اس کی حکمت و مصلحت بتا دی جاتی ہے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے۔
اس لیے ایسے مواقع پر ادھر ادھر تنقید یا طعن و تشنیع کی بجائے اگر براہ راست گفتگو کر لی جائے تو معاملہ حل ہو جاتا ہے۔
اس لیے ایسے مواقع پر امیر یا قابل احترام شخصیت کو بھی تحمل اور بردباری سے کام لیتے ہوئے اپنے عقیدت مندوں اور ساتھیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے بعض مواقع پر اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کے لیے کسی کے شر سے بچنے کے لیے اسے کچھ دینا پڑتا ہے کس کو اسلام کی طرف راغب اور مائل کرنے کے لیے دینے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ اس کے مسلمان ہونے سے اس کا بااثر خاندان یا قبیلہ مسلمان ہو سکتا ہے کہ بعض دفعہ نئے نئے مسلمان ہونے والوں کو اسلام پر جمانے کے لیے کچھ دینا پڑتا ہے اور یہ سب کچھ اسلام اور اہل اسلام کی بہتری اور مفاد کے لیے ہو گا۔
اپنے ذاتی اور شخصی یا گروہی مفاد کے لیے نہیں اس لیے مصارف زکاۃ میں بھی ﴿الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ﴾ کا مصرف اور مد رکھی گئی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2438]

Sahih Muslim Hadith 2438 in Urdu