صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
54. باب الدعاء لمن اتى بصدقته:
باب: صدقہ لانے والے کو دعا دینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1078 ترقیم شاملہ: -- 2493
ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلِّ عَلَيْهِمْ ".
عبداللہ بن ادریس نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی البتہ انہوں نے آل ابی اوفی کے بجائے ”ان سب پر رحمت بھیج“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے یہی روایت شعبہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، اس میں صرف یہ الفاظ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر رحمت نازل فرما۔“ گویا «اَللّٰهُمَّ» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1078
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥عبد الله بن إدريس الأودي، أبو محمد عبد الله بن إدريس الأودي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة حجة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن إدريس الأودي | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2493 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2493
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زکاۃ لانے والوں کے لیے دعا کرنا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان:
﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ﴾ کی تعمیل میں تھا۔
کیونکہ دعا ملنے سے انسان کو ایک طرح سے سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی کو لفظ صلوۃ کے ذریعہ دعا دے سکتے تھے لیکن ہمارے لیے غیر انبیاء علیہ السلام کے لیے الگ اور مستقل طور پر لفظ صلوۃ اور سلام استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔
کیونکہ رافضی ائمہ اہل بیت کو نبی کا درجہ دیتے ہیں اور ان پر صلوۃ وسلام بھیجتے ہیں اس لیے ان الفاظ کے استعمال سے ان بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
صاحبین اور جمہور علماء کا یہی نظریہ ہے۔
صرف امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زکاۃ لانے والوں کے لیے دعا کرنا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان:
﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ﴾ کی تعمیل میں تھا۔
کیونکہ دعا ملنے سے انسان کو ایک طرح سے سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی کو لفظ صلوۃ کے ذریعہ دعا دے سکتے تھے لیکن ہمارے لیے غیر انبیاء علیہ السلام کے لیے الگ اور مستقل طور پر لفظ صلوۃ اور سلام استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔
کیونکہ رافضی ائمہ اہل بیت کو نبی کا درجہ دیتے ہیں اور ان پر صلوۃ وسلام بھیجتے ہیں اس لیے ان الفاظ کے استعمال سے ان بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
صاحبین اور جمہور علماء کا یہی نظریہ ہے۔
صرف امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2493]
Sahih Muslim Hadith 2493 in Urdu
عبد الله بن إدريس الأودي ← شعبة بن الحجاج العتكي