علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين:
باب: رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1082 ترقیم شاملہ: -- 2519
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
معاویہ، ابن سلام، ابن مثنیٰ، ابوعامر، ہشام، ابن مثنیٰ، ابن ابی عمر، عبدالوہاب بن عبدالمجید، ایوب، ذہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2519]
امام صاحب اپنے کئی اساتذہ سے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند ہی سے یہ روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2519]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1082
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2519 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2519
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رمضان کے استقبال یا احتیاط کی نیت سے رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنا درست نہیں ہے کیونکہ شریعت نے روزہ چاند کے دیکھنے پر رکھا ہے اس لیے کسی تکلف یا شک وشبہ میں مبتلا ہو کراحتیاطی یا استقبالی روزہ رکھنا درست نہیں ہے ہاں قضاء نذر یا روزہ اس کے معمول کےمطابق آ جائے مثلاً کسی نے نذر مانی تھی کہ میں فلاں ماہ سوموار یا جمعرات کا روزہ رکھوں گا یا اگلے سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھوں گا۔
یا اس کا معمول اور عادت ہے کہ وہ سوموار یا جمعرات کا روزہ رکھتا ہے تو یہ دن رمضان سے ایک دن پہلے آ گیا ایسی صورت میں وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
رمضان کے استقبال یا احتیاط کی نیت سے رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنا درست نہیں ہے کیونکہ شریعت نے روزہ چاند کے دیکھنے پر رکھا ہے اس لیے کسی تکلف یا شک وشبہ میں مبتلا ہو کراحتیاطی یا استقبالی روزہ رکھنا درست نہیں ہے ہاں قضاء نذر یا روزہ اس کے معمول کےمطابق آ جائے مثلاً کسی نے نذر مانی تھی کہ میں فلاں ماہ سوموار یا جمعرات کا روزہ رکھوں گا یا اگلے سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھوں گا۔
یا اس کا معمول اور عادت ہے کہ وہ سوموار یا جمعرات کا روزہ رکھتا ہے تو یہ دن رمضان سے ایک دن پہلے آ گیا ایسی صورت میں وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2519]
Sahih Muslim Hadith 2519 in Urdu
شيبان بن عبد الرحمن التميمي ← يحيى بن أبي كثير الطائي