یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم ووجوب الكفارة الكبرى فيه وبيانها وانها تجب على الموسر والمعسر وتثبت في ذمة المعسر حتى يستطيع:
باب: رمضان کے دنوں میں روزہ دار پر ہم بستری کی سخت حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کا بیان، اور یہ کفارہ مالدار اور تنگ دست دونوں پر واجب ہے، اور تنگ دست کے ذمے اس وقت واجب ہو گا جب وہ اس کی طاقت رکھتا ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1112 ترقیم شاملہ: -- 2601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِمَ؟ "، قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ: " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ "، قَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ "، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ "،
محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر، ابن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر، صدقہ کر۔“ اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا: ”اس کو صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2601]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں جل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: میں رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی کے پاس چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر صدقہ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیٹھنے کا حکم دیا، آپ کے پاس کھانے کی دو ٹوکریاں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2601]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1112
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2601 in Urdu
عباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق