الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب صوم يوم عاشوراء:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2651
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ ".
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2651]
علقمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے عاشورہ کے دن اشعت بن قیس رحمۃ اللہ علیہ حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں آئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو اشعت نے کہا: اے عبدالرحمٰن آج کا دن تو عاشورہ کا دن ہے تو انھوں نے جواب دیا رمضان کی فرضیت کے نزول سے پہلے اس کا روزہ رکھا جاتا تھا جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہو گیا اسے چھوڑ دیا گیا اس لیے اگر آپ کا روزہ نہیں ہے تو کھا لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2651 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2651
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رمضان کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا جس قدر اہتمام کیا جاتا تھا اور اس کے لیے ترغیب دی جاتی تھی فرضیت رمضان کے بعد اس کے لیے وہ اہتمام اور تاکید و ترغیب نہ رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نگہبانی و نگرانی ترک کردی اس لیے محض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کا روزہ رکھتے تھے اور بعض اس کے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اہتمام کرتے تھے اب بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
رمضان کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا جس قدر اہتمام کیا جاتا تھا اور اس کے لیے ترغیب دی جاتی تھی فرضیت رمضان کے بعد اس کے لیے وہ اہتمام اور تاکید و ترغیب نہ رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نگہبانی و نگرانی ترک کردی اس لیے محض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کا روزہ رکھتے تھے اور بعض اس کے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اہتمام کرتے تھے اب بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2651]
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود