🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب قضاء الصيام عن الميت:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2695
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابوسعید اشج، ابوخالد، اعمش، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ، مسلم بن جبیر، مجاہد، عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2695]
امام صاحب نے اپنے استاد ابو سعید اشج سے یہ روایت اعمش (سلیمان) سے سلمہ بن کہیل حکم بن عتیبہ اور مسلم بطین تینوں نے سعید بن جبیر، مجاہد اور عطاء کے واسطہ سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة ثبت
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى
Newسلمة بن كهيل الحضرمي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سلمة بن كهيل الحضرمي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← سليمان بن مهران الأعمش
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2695 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2695
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے یہ بات صراحتاً ثابت ہوتی ہے کہ میت کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھ سکتا ہے اور اسے روزے رکھنے چاہئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک مثال کے ذریعہ سمجھائی جب کہ روزہ انسان کے ذمہ اللہ کا حق ہے جو قرض کے حکم میں ہے،
جس طرح انسانی ادائیگی ضروری ہے،
اس سے بڑھ کر اللہ کے قرض کی ادائیگی لازمی ہے اور حج کی طرح روزہ بھی ایسا حق ہے،
جس کی انسان کی زندگی میں بھی نیابت،
عذر یا مجبوری کی صورت میں جائز ہے۔
لیکن نماز کی نیابت بالاتفاق جائز نہیں ہے۔
اس لیے اہل ظاہر کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بنا پر،
ولی کے لیے روزے رکھنا ضروری ہے،
محدثین،
ابوثور اور بعض شوافع کے نزدیک بھی ان صحیح احادیث کی بنا پر اس کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی بھی یہ رائے ہے اور حافظ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی پر زور وکالت کی ہے لیکن احناف اور شوافع جو عبادات میں بھی (یعنی بدنی عبادت میں)
قیاس سے کام لے کر میت کی طرف سے تلاوت قرآنی جائز قرار دیتےہیں،
حالانکہ کسی حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے اور یہ نماز کی طرح خالص بدنی عبادت ہے جس میں نیابت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے،
ان کے نزدیک ولی،
میت کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا اور صحیح احادیث کے مقابلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے اقوال پیش کرتے ہیں یا ایسے قواعد وضوابط جو وضعی ہیں یا چسپاں نہیں ہوتے پیش کرتے ہیں۔
بہرحال امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر میت نے اپنے مال سے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت کی ہو تو فدیہ ادا کرنا واجب ہے۔
اگر وصیت نہ کی ہو تو مستحب ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،
اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نذر کی صورت میں روزے رکھے جائیں گے اور رمضان کی صورت میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔
علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے ظاہری معنی کو ترجیح دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2695]