صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قضاء الصيام عن الميت:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2701
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔۔۔ (آگے) ان کی حدیث کے مانند (بیان کیا) اور انہوں نے بھی کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2701]
امام صاحب ایک اور استاد سے سلیمان بن بریدہ کی اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2701]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2701 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2701
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مختلف احادیث میں کہیں مرد کی آمد کا تذکرہ ہے اور کہیں عورت کا،
بعض جگہ ایک ماہ کے روزے ہیں اور بعض جگہ دو ماہ کے اور بقول امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
سوال مرد نے بھی کیا اور عورت نے بھی،
ایک ماہ کے بارے میں سوال ہوا اور دو ماہ کے بارے میں بھی اور ان سب احادیث سے مشترکہ طور پر یہ بات ثابت ہوئی کہ ولی میت کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے اور ان احادیث کے مخالف کوئی صحیح اورمرفوع حدیث موجود نہیں ہے۔
اور ان احادیث کو اطعام پر محمول کرنا بلاوجہ اور بلاضرورت ہے اور ظاہری معنی پر محمول کرنے میں کوئی مانع یا رکاوٹ موجود نہیں ہے اور ان احادیث صحیحہ پر تنقید اور اعتراض بیجا ہے۔
فوائد ومسائل:
مختلف احادیث میں کہیں مرد کی آمد کا تذکرہ ہے اور کہیں عورت کا،
بعض جگہ ایک ماہ کے روزے ہیں اور بعض جگہ دو ماہ کے اور بقول امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
سوال مرد نے بھی کیا اور عورت نے بھی،
ایک ماہ کے بارے میں سوال ہوا اور دو ماہ کے بارے میں بھی اور ان سب احادیث سے مشترکہ طور پر یہ بات ثابت ہوئی کہ ولی میت کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے اور ان احادیث کے مخالف کوئی صحیح اورمرفوع حدیث موجود نہیں ہے۔
اور ان احادیث کو اطعام پر محمول کرنا بلاوجہ اور بلاضرورت ہے اور ظاہری معنی پر محمول کرنے میں کوئی مانع یا رکاوٹ موجود نہیں ہے اور ان احادیث صحیحہ پر تنقید اور اعتراض بیجا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2701]
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي