🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا:
باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1184 ترقیم شاملہ: -- 2813
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
عبید اللہ (بن عمر بن حفص العدوی المدنی) نے کہا: مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یاد کر لیا، پھر سالم، نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2813]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں نے تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہی سے سیکھا ہے“، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2813 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2813
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اهل:
چاند دیکھ کر بلند آواز سے چلانے کو اهلال کہتے ہیں،
اسی طرح بچہ کے رونے کو بھی اہلال کہتے ہیں اور غیراللہ کے لیے کوئی چیز نامزد کرنے کے لیے کہتے ہیں،
”اهل لغير الله“ اللہ کے سوا کے اس کو نامزد کیا اور اهل بالحج کا معنی ہوتا ہے،
حج کے لیے تلبیہ کہنا،
چونکہ احرام باندھنے کے وقت تلبیہ کہا جاتا ہے،
اس لیے احرام باندھنے کو بھی اہلال سے تعبیر کردیتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
تلبیہ کہنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعات نماز پڑھنے کے بعد متصلہ تلبیہ کہا۔
لیکن اس کا علم صرف ان چند لوگوں کو ہو سکا جو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد ذوالحلیفہ کے پاس اونٹنی پر سوار ہوئے اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ تلبیہ کہا،
جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا تلبیہ نہیں سنا تھا تو انہوں نے سمجھا،
آپ نے تلبیہ پہلی دفعہ ناقہ پر سوارہو کرکہا،
پھر جب ناقہ چل پڑی اور مقام بیداء پر پہنچی تو پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ تلبیہ پڑھا،
جن لوگوں نے پہلا اور دوسرا تلبیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا تھا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کا آغاز مقام بیداء پر پہنچ کر کیا“ ”اصل حقیقت یہ ہے کہ احرام کے بعد ہر نئے موڑ اور نئے مرحلے پر تلبیہ کہا جائے گا اور اس کے ساتھ صبح وشام اور دوسرے مواقع پر مسنون ادعیہ اور تکبیرات وتحمیدات بھی پڑھی جائیں گی۔
مرد تلبیہ بلند آواز سے کہیں گے اور عورتیں آہستہ آہستہ سے،
تلبیہ ہرحالت میں کہا جائے گا،
تلبیہ کہنے والا پاک ہو یا ناپاک۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2813]

Sahih Muslim Hadith 2813 in Urdu