🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب تحريم الصيد الماكول البري ، وما اصله ذٰلك علي المحرم بحج او عمرة او بهما
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2847
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: میں نے آپ کو زیبرے کا گوشت ہدیہ پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2847]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ہے: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2847]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان
Newعمرو بن محمد الناقد ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عمرو بن محمد الناقد
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2847 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2847
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جنگلی گدھا شکار کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ابواء یا ودان میں پیش کیا،
یہ دونوں مقام قریب قریب ہیں چونکہ گدھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شکار کیا گیا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا پھر اس نے ذبح کرکے اس کا گوشت پیش کیا تو پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کردیا کیونکہ جو شکار محرم کے لیے کیا جائے وہ زندہ ہو یا اس کا گوشت ہومحرم کے لیے اس کو کھانا درست نہیں ہے۔
جمہور ائمہ کا یہی موقف ہے اور محدثین کا نظریہ بھی یہی ہے جبکہ اما مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک محرم کے لیے کیا گیا شکار حلال کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔
اوراگرحلال شکار اپنے لیے کرے،
محرم کا اس میں کسی قسم کا دخل اشارتاً یا کنایتاً بھی نہ ہو اور وہ خود محرم کو پیش کرے تو جمہور ائمہ اورمحدثین کے نزدیک محرم کے لیے اس کا کھانا جائز ہے اورامام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دونوں صورتوں میں جائز ہے۔
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین،
امام لیث رحمۃ اللہ علیہ اور امام اسحاق کے نزدیک کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2847]

Sahih Muslim Hadith 2847 in Urdu