صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب جواز تعليق الإحرام وهو ان يحرم بإحرام كإحرام فلان فيصير محرما بإحرام مثل إحرام فلان
باب: اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کر نے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1221 ترقیم شاملہ: -- 2960
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ "، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ "، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.
ابوعمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تھا، پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”ابوموسیٰ! تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ (حج کا، عمرے کا، یا دونوں کا؟)“ میں نے عرض کی: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ آگے (ابوعمیس نے) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2960]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تھا، اور میری واپسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سال ہوئی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”اے ابو موسیٰ! جب تم نے احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا، میں نے کہا تھا، (لَبَّيْكَ اِهْلاَلاً كَاِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام جیسا احرام باندھ کر حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی ہدی ساتھ لائے ہو؟“ میں نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرو، پھر حلال ہو جاؤ۔“ آگے شعبہ اور سفیان کی طرح روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2960]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
طارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن قيس الأشعري