🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب جواز التمتع:
باب: حج تمتع کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2974
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ، فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ "،
ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے گا۔ بلاشبہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو (حج کے مہینوں میں) اکٹھا کیا، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی (بتایا) کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (بواسیر کی بناء پر) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے دغوانا چھوڑ دیا تو (فرشتوں کا سلام) دوبارہ شروع ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2974]
مطرف بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں، امید ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا، پھر اپنی وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ قرآن ہی میں اس کی حرمت نازل ہوئی، حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کہا جاتا تھا، حتی کہ میں نے (بیماری کی شدت کی بنا پر) داغ لگوایا تھا، تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے داغ لگوانا چھوڑ دیا، تو سلام دوبارہ شروع ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← حميد بن هلال العدوي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2974 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2974
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بواسیر کی شکایت تھی اور وہ اس مصیبت پر صبر کرتے تھے اس وجہ سے فرشتے ان کو سلام کہتے تھے بیماری کی شدت کی بنا پر انھوں نے آگ سے داغ لگوانا شروع کیا تو فرشتوں سنے سلام کہنا چھوڑدیا انھوں نے داغ لگوانا ترک کر دیا تو فرشتے پھر سلام کہنے لگے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج اور عمرہ اکٹھا کرنے سے ایک حکمت اور مصلحت کی بنا پر روکتے تھے اور اس سے یہ رائے قائم ہونا شروع ہو گئی تھی کہ حج اور عمرہ اکٹھا کرنا جائز نہیں ہے اس لیے حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس رائے کو درست نہیں سمجھتے تھے اور اس سے اختلاف کا اظہار کرتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2974]

Sahih Muslim Hadith 2974 in Urdu