🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب استحباب زيادة التغليس بصلاة الصبح يوم النحر بالمزدلفة والمبالغة فيه بعد تحقق طلوع الفجر:
باب: مزدلفہ میں نحر کے دن (عید کے دن) صبح کی نماز جلدی پڑھنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1289 ترقیم شاملہ: -- 3117
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ.
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، اور کہا: (فجر کی نماز) اس کے (معمول کے) وقت سے پہلے اندھیرے میں (ادا کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3117]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے نقل کرتے ہیں، اس میں ہے، (عام دنوں سے) زیادہ اندھیرے میں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمدثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← إسحاق بن راهويه المروزي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3117 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3117
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایام حج کی نمازوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کی نماز جمع کی اور صبح کی نماز عام دنوں سے زیادہ اندھیرے میں طلوع فجر کے فوراً بعد پڑھ لی۔
لیکن اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ صرف مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی ہے۔
آ گے پیچھے خوب روشنی پھیلنے کے بعد پڑھتے تھے یا مزدلفہ کے سوا کہیں دو نمازیں جمع نہیں کیں،
خود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوسری روایت کے منافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں بھی ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت میں جمع کیا تھا۔
اس لیے جب دوسری صحیح روایات سے ہمیشہ صبح کا اندھیرے میں پڑھنا ثابت ہے یا دو نمازوں کا جمع کرنا ثابت ہے،
تو ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے کے اس وقت سے بھی پہلے نماز ادا فرمائی جس میں روزانہ ادا کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3117]