صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
68. باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها والدعاء في نواحيها كلها:
باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1329 ترقیم شاملہ: -- 3234
وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ، قَالَ: فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ، فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: " أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: هَا هُنَا "، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى.
عبداللہ عون نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہو چکے تھے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے دروازہ بند کیا۔ کہا وہ اس میں کافی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے میں سیڑھی چڑھا اور بیت اللہ میں داخل ہوا میں نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا اس جگہ کہا میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3234]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں کعبہ کے پاس پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں داخل ہو چکے تھے، اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے لیے دروازہ بند کر دیا تھا، یہ حضرات کافی دیر تک اندر رہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، اور میں سیڑھی پر چڑھ کر اندر چلا گیا، اور میں نے پوچھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا، یہاں، اور میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1329
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
أسامة بن زيد الكلبي ← عثمان بن طلحة القرشي