الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب حكم العزل:
باب: عزل کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3555
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ ، حدثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کی: میری ایک لونڈی ہے، وہی ہماری خادمہ ہے اور وہی ہمارے لیے پانی لانے والی بھی ہے اور میں اس سے مجامعت بھی کرتا ہوں۔ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس سے عزل کر لیا کرو، (لیکن) یہ بات یقینی ہے کہ جو بچہ اس کے لیے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ آ کر رہے گا۔“ وہ شخص (چند دن) رکا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی: وہ لونڈی حاملہ ہو گئی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3555]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3555]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3555 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3555
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مرد وعورت کا ہر تعلق حمل کا باعث نہیں بنتا،
یعنی مباشرت سے حمل کا ٹھہرنا ضروری نہیں ہے۔
انسان بیوی سے مقاربت کرتا رہتا ہے لیکن بچہ پیدا نہیں ہوتا۔
اسی طرح انسان کا پورا یا سب مادہ حمل کا باعث نہیں ہوتا۔
اس کا کوئی بھی جز اس کا باعث بن سکتا ہے۔
بہرحال حمل کا اقرار اللہ تعالیٰ کی مشیت وارادہ پر موقوف ہے۔
انسان کی قدرت سے باہر ہے اس لیے عزل انسان کے لیے کارگر نہیں ہو سکتا۔
فوائد ومسائل:
مرد وعورت کا ہر تعلق حمل کا باعث نہیں بنتا،
یعنی مباشرت سے حمل کا ٹھہرنا ضروری نہیں ہے۔
انسان بیوی سے مقاربت کرتا رہتا ہے لیکن بچہ پیدا نہیں ہوتا۔
اسی طرح انسان کا پورا یا سب مادہ حمل کا باعث نہیں ہوتا۔
اس کا کوئی بھی جز اس کا باعث بن سکتا ہے۔
بہرحال حمل کا اقرار اللہ تعالیٰ کی مشیت وارادہ پر موقوف ہے۔
انسان کی قدرت سے باہر ہے اس لیے عزل انسان کے لیے کارگر نہیں ہو سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3555]
جبر بن نوف الهمداني ← أبو سعيد الخدري