Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها وانه لو خالف وقع الطلاق ويؤمر برجعتها:
باب: حائضہ کو اس کی رضامندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر اس حکم کی ممانعت کی تو طلاق واقع ہونے اور رجوع کا حکم دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1471 ترقیم شاملہ: -- 3658
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرَاجَعْتُهَا وَحَسَبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا.
زبیدی نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، لیکن انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اس سے رجوع کر لیا اور اس کی وہ طلاق شمار کر لی گئی جو میں نے اسے دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3658]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے زہری کی سند کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ مگر اس میں یہ ہے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا، میں نے بیوی سے رجوع کر لیا اور میں نے اس طلاق کو جو اسے دی تھی طلاق شمار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل
Newمحمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن حرب الخولاني، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب الخولاني ← محمد بن الوليد الزبيدي
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد ربه الجرجسي، أبو الفضل
Newيزيد بن عبد ربه الجرجسي ← محمد بن حرب الخولاني
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← يزيد بن عبد ربه الجرجسي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3658 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3658
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حیض کی حالت میں طلاق دینا تو جائز نہیں ہے۔
لیکن اگر کسی نے یہ حرکت کی تو ائمہ اربعہ کے نزدیک وہ طلاق شمار ہوگی لیکن حافظ ابن حزم کے نزدیک یہ طلاق شمار نہیں ہو گی اور حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ طلاق نہیں ہو گی۔
لیکن صاحب واقعہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا تقاضا یہی ہے کہ یہ طلاق شمار ہو گی۔
جیسا کہ اگر کوئی انسان قربت وصحبت کے بعد طلاق دیتا ہے تو یہ حرکت ناجائز ہے۔
لیکن طلاق شمار ہوتی ہے اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب حالت حیض میں تعلقات قائم نہیں ہو سکتے تو اس سے یہ بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ واقعی میاں بیوی کا نباہ نہیں ہو سکتا۔
اس کا پتہ حالت طہر سے چل سکتا ہے جس میں میاں بیوی میں قربت ہو سکتی ہے۔
اس لیے اس میں طلاق کی اجازت کا نہ ہونا واضح تھا۔
یا کم از کم اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کر لیتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3658]