الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب انقضاء عدة المتوفى عنها زوجها وغيرها بوضع الحمل:
باب: وضع حمل سے عدت کا تمام ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 1485 ترقیم شاملہ: -- 3724
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ . ح وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَلَمْ يُسَمِّ كُرَيْبًا.
لیث اور یزید بن ہارون دونوں نے اسی سند کے ساتھ یحییٰ بن سعید سے روایت کی، البتہ لیث نے اپنی حدیث میں کہا: انہوں نے (کسی کو) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کریب کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3724]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن لیث کی روایت میں بھیجنے والے کا نام نہیں بیان کیا گیا کہ وہ کریب تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3724]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3724 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3724
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی مسئلہ میں دلیل کی روشنی میں چھوٹا بڑے سے اختلاف کر سکتا ہے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن تابعی ہیں اور حضرت ابن عباس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اختلاف کر رہے ہیں،
اگر دلیل کی روشنی میں صحابی کا قول چھوڑا جا سکتا ہے تو کسی امام کی مخالفت کرنا کیونکر جرم ہے نیز یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ کو شادی کی اجازت دی ہے تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ عورت خود اپنا نکاح کر سکتی ہے یا اس کو ولی کی ضرورت نہیں ہے نکاح تو اپنے معروف طریقہ کے مطابق ہی کرنا ہوگا۔
فوائد ومسائل:
کسی مسئلہ میں دلیل کی روشنی میں چھوٹا بڑے سے اختلاف کر سکتا ہے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن تابعی ہیں اور حضرت ابن عباس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اختلاف کر رہے ہیں،
اگر دلیل کی روشنی میں صحابی کا قول چھوڑا جا سکتا ہے تو کسی امام کی مخالفت کرنا کیونکر جرم ہے نیز یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ کو شادی کی اجازت دی ہے تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ عورت خود اپنا نکاح کر سکتی ہے یا اس کو ولی کی ضرورت نہیں ہے نکاح تو اپنے معروف طریقہ کے مطابق ہی کرنا ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3724]
يحيى بن سعيد الأنصاري ← اسم مبهم