🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب تالف قلب من يخاف على إيمانه لضعفه والنهي عن القطع بالإيمان من غير دليل قاطع.
باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 150 ترقیم شاملہ: -- 381
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: أَقِتَالًا، أَيْ سَعْدُ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ.
(عامر بن سعد کے بھائی) محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کی گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: کیا لڑائی کر رہے ہو سعد؟ کہ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں ..... [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 381]
محمد بن سعد رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: اے سعد! کیا لڑائی کرو گے؟ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الزكاة، باب: قول الله تعالی ﴿ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ﴾ برقم (1478) والمولف [مسلم] في الزكاة، باب: اعطاء من يخاف علی ايمانه برقم (2432) انظر (((التحفة)) برقم (3921)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن سعد الزهري، أبو القاسمثقة
👤←👥إسماعيل بن محمد الزهري، أبو محمد
Newإسماعيل بن محمد الزهري ← محمد بن سعد الزهري
ثقة حجة
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← إسماعيل بن محمد الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ له تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 381 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 381
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
نئے نئے مسلمان ہونے والے لوگ،
جن کے دل میں ابھی دین پوری طرح راسخ نہیں ہوتا اور دین سے مفادات وابستہ کیے ہوتے ہیں،
ان کی تالیف قلبی کے لیے اگر ضرورت اور حالات کا تقاضا ہو تو ان کو مالی اور مادی فوائد سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا چاہیے،
اور اس کے لیے وہ لوگ جو قدیم الاسلام لوگ ہیں اوردین سے پوری طرح آگاہ ہیں ان کو ایثار وقربانی سے کام لینا چاہیے،
اور ان کی خواہش ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرکے جہنم سے بچایا جائے۔
(2)
اسلام ظاہری اعمال کا نام ہے،
اور ایمان باطنی عقائد سے عبارت ہے۔
انسان،
دوسروں کے ظاہر سے آگاہ ہو سکتا ہے،
اس لیے ان کو مسلمان قرار دے سکتا ہے،
لیکن وہ دوسروں کے باطن سے آگاہ نہیں ہو سکتا،
اس لیے قطعی اور یقینی قرائن وعلامات کے سوا کسی کویقین اور قطعیت کے ساتھ مومن نہیں کہا جا سکتا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ظاہری اعمال کے اعتبار سے مسلمان نظر آتا ہے،
اس کی اصل حقیقت اور باطن سے اللہ آگاہ ہے،
اور سفارش کرتے بھی اس کا اظہار کرے گا کہ میری معلومات کی حد تک یہ بات ایسے ہے۔
حضرت سعدؓ چونکہ حضرت جعیل بن سراقہؓ کے بارے میں مطمئن تھے،
اس لیے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اور غرض سمجھ میں نہیں آئی،
اس لیے انہوں نے اصرار سے کام لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا الحاح واصرار ناگوار گزرا اور فرمایا:
"أَقِتَالًا یَا سَعْد!" اے سعد! لڑتے ہو یا سفارش کرتے ہو۔
اس لیے سفارش کرنے والے کو بہت اصرار سے کام نہیں لیا جائے،
اور نہ ہی اپنی سفارش کے منوانے پر زور دینا چاہیے،
دوسرے کو بھی موقع دینا چاہیے کہ وہ حالت کے تقاضا کے مطابق فیصلہ کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 381]