صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
71. باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم:
باب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
ترقیم عبدالباقی: 156 ترقیم شاملہ: -- 395
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر (قائم رہتے ہوئے) لڑتا رہے گا، وہ قیامت کے دن تک (جس بھی معرکے میں ہوں گے) غالب رہیں گے، کہا: پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے تو اس طائفہ (گروہ) کا امیر کہے گا: آئیں ہمیں نماز پڑھائیں، اس پر عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: نہیں، اللہ کی طرف سے اس امت کو بخشی گئی عزت و شرف کی بنا پر تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 395]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور حق پر ہوگا، اور وہ قیامت تک (دشمنوں پر) غالب ہوگا۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے، تو اس طائفہ کا امیر کہے گا: آئیے! ہمیں جماعت کرائیے! تو عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے نہیں، تم ایک دوسرے پر امیر ہو، اللہ نے اس امت کو یہ عزت و شرف بخشا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه مسلم في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: قوله صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا تزال طائفة من امتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم)) برقم (4931) انظر ((التحفة)) برقم (2840)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 395 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 395
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا،
تو بیت المقدس میں نماز کے لیے امام مہدی علیہ السلام آگے بڑھ چکے ہوں گے،
وہ پیچھے ہٹ کر عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دیں گے،
لیکن وہ انکی دعوت کو قبول نہیں فرمائیں گے،
تا کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اس دین کے تابع ہو کر اترے ہیں۔
جب ان کا اس امت کا ایک فرد ہونا ظاہر ہو جائے گا،
تو بعد میں اگر وہ امام بھی بن جائیں گے تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہوگا۔
وہ کتاب وسنت کے مطابق ہی حکمرانی کریں گے اور اس امت کے ایک فرد متصور ہوں گے۔
فوائد ومسائل:
جب عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا،
تو بیت المقدس میں نماز کے لیے امام مہدی علیہ السلام آگے بڑھ چکے ہوں گے،
وہ پیچھے ہٹ کر عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دیں گے،
لیکن وہ انکی دعوت کو قبول نہیں فرمائیں گے،
تا کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اس دین کے تابع ہو کر اترے ہیں۔
جب ان کا اس امت کا ایک فرد ہونا ظاہر ہو جائے گا،
تو بعد میں اگر وہ امام بھی بن جائیں گے تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہوگا۔
وہ کتاب وسنت کے مطابق ہی حکمرانی کریں گے اور اس امت کے ایک فرد متصور ہوں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 395]
Sahih Muslim Hadith 395 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري