صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب الرهن وجوازه في الحضر والسفر:
باب: گروی رکھنا سفر اور حضر دونوں میں جائز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1603 ترقیم شاملہ: -- 4117
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ حَدِيدٍ.
حفص بن غیاث نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔۔۔ اور انہوں نے ”لوہے کی زرہ“ کے الفاظ بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4117]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں لوہے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4117 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4117
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمی کافروں سے لین دین کرنا جائز ہے،
اور حضر میں بھی سفر کی طرح گروی رکھنا جائز ہے،
کیونکہ اس سے اصل مقصود تو وثوق اور اعتماد پیدا کرنا ہے،
جس کی ضرورت حضر (اقامت)
میں بھی پیش آ سکتی ہے،
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کا یہی نظریہ ہے،
لیکن امام مجاہد اور داؤد ظاہری کے نزدیک مقیم ہونے کی صورت میں،
گروی رکھنا جائز نہیں ہے،
نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیع سلم کی صورت میں بھی (جس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے)
گروی رکھنا جائز ہے،
اور جنگی آلات بھی گروی رکھے جا سکتے ہیں،
لیکن جن کافروں سے جنگ ہے،
ان کے پاس گروی رکھنا یا انہیں بیچنا درست نہیں ہے،
بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طعام،
تیس صاع جو تھے،
اور ابن حبان کی روایت کی رو سے ان کی قیمت ایک دینار تھی۔
(فتح الباري،
ج 5،
ص 174)
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمی کافروں سے لین دین کرنا جائز ہے،
اور حضر میں بھی سفر کی طرح گروی رکھنا جائز ہے،
کیونکہ اس سے اصل مقصود تو وثوق اور اعتماد پیدا کرنا ہے،
جس کی ضرورت حضر (اقامت)
میں بھی پیش آ سکتی ہے،
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کا یہی نظریہ ہے،
لیکن امام مجاہد اور داؤد ظاہری کے نزدیک مقیم ہونے کی صورت میں،
گروی رکھنا جائز نہیں ہے،
نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیع سلم کی صورت میں بھی (جس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے)
گروی رکھنا جائز ہے،
اور جنگی آلات بھی گروی رکھے جا سکتے ہیں،
لیکن جن کافروں سے جنگ ہے،
ان کے پاس گروی رکھنا یا انہیں بیچنا درست نہیں ہے،
بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طعام،
تیس صاع جو تھے،
اور ابن حبان کی روایت کی رو سے ان کی قیمت ایک دینار تھی۔
(فتح الباري،
ج 5،
ص 174)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4117]
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق