صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب ترك الوصية لمن ليس له شيء يوصي فيه:
باب: جس کے پاس کوئی شے قابل وصیت کے نہ ہو اس کو وصیت نہ کرنا درست ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1634 ترقیم شاملہ: -- 4228
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قُلْتُ: فَكَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ؟، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ؟.
وکیع اور ابن نمیر دونوں نے مالک بن مغول سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی، البتہ وکیع کی حدیث میں ہے: میں نے پوچھا: تو لوگوں کو وصیت کا کیسے حکم دیا گیا ہے؟ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے: میں نے پوچھا: مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی ہے؟ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4228]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت دو اساتذہ کی سندوں سے، مالک بن مغول ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، وکیع کی حدیث میں ہے، میں نے پوچھا، تو لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں دیا گیا؟ اور ابن نمیر کی روایت ہے، میں نے پوچھا، مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کر دی گئی؟ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1634
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← مالك بن مغول البجلي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن نمير الهمداني | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4228 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4228
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جمہور کے نزدیک وصیت کرنا فرض نہیں ہے،
اس کا انحصار ضرورت پر ہے،
جیسا کہ تفصیل گزر چکی ہے،
اور ممکن ہے کہ طلحہ بن مصرف اس کو فرض سمجھتے ہوں۔
فوائد ومسائل:
جمہور کے نزدیک وصیت کرنا فرض نہیں ہے،
اس کا انحصار ضرورت پر ہے،
جیسا کہ تفصیل گزر چکی ہے،
اور ممکن ہے کہ طلحہ بن مصرف اس کو فرض سمجھتے ہوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4228]
عبد الله بن نمير الهمداني ← مالك بن مغول البجلي