🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ندب من حلف يمينا فراى غيرها خيرا منها ان ياتي الذي هو خير ويكفر عن يمينه:
باب: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کا کفارہ دے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1650 ترقیم شاملہ: -- 4274
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ فَلْيُكَفِّرْ يَمِينَهُ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ.
سلیمان بن بلال نے مجھے سہیل سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے ہم معنی حدیث (ان الفاظ میں) بیان کی: اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4274]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے امام مالک کی حدیث نمبر 12 کی طرح بیان کرتے ہیں، کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4274]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1650
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيدثقة
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم
Newخالد بن مخلد القطواني ← سليمان بن بلال القرشي
مقبول
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← خالد بن مخلد القطواني
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4274 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4274
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس بات پر تمام فقہائے امت کا اتفاق ہے،
اگر کسی انسان نے کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھائی،
لیکن قسم پورا کرنے کے مقابلہ میں اس کو توڑنا بہتر ثابت ہوا،
تو اس کو قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے،
لیکن اس میں اختلاف ہے،
کیا قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا جائز ہے یا نہیں،
امام ابو حنیفہ کا موقف یہ ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا درست نہیں ہے،
وہ پہلے قسم توڑے پھر کفارہ ادا کرے،
داود ظاہری اور اشعب مالکی کا یہی قول ہے،
لیکن امام شافعی،
مالک،
احمد،
ربیعہ،
اوزاعی،
لیث بن سعد،
ثوری،
اسحاق،
عمر،
ابن عمر،
ابن عباس وغیرھم کے نزدیک،
قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا جائز ہے،
روایا ت سے دونوں صورتیں جائز معلوم ہوتی ہیں۔
(مغنی ابن قدامہ،
ج(13)
،
ص 481 تا 483۔
علامہ ترقی،
فتح الباری،
ج (11)
مکتبہ دارالسلام،
ص 741 تا 743)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4274]