یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب التغليظ على من قذف مملوكه بالزنا:
باب: اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگانے والے کے لیے وعید کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1660 ترقیم شاملہ: -- 4312
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ كِلَاهُمَا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيَّ التَّوْبَةِ.
وکیع اور اسحاق بن یوسف ازرق دونوں نے فضیل بن غزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ہے: میں نے ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4312]
امام صاحب دو اور اساتذہ کی سند سے فضیل بن غزوان کی مذکورہ بالا سند ہی سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم ، نبی التوبہ سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4312 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4312
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کو نبی التوبہ اس لیے کہتے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کافر دل و زبان سے ایمان لا کر کفر و شرک سے ایمان کی طرف لوٹ سکتا ہے،
کیونکہ توبہ کا اصل معنی رجوع اور واپسی ہے،
یعنی وہ نبی جس کے ذریعہ کفر سے ایمان کی طرف لوٹا جا سکتا ہے،
یا اس لیے کہ پہلی امتوں کو بعض گناہوں کی توبہ کی صورت میں اپنے آپ کو قتل کرنا پڑتا تھا،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قبول توبہ کے لیے دل و زبان کا اعتقاد و اقرار ہی کافی ہے۔
فوائد ومسائل:
آپ کو نبی التوبہ اس لیے کہتے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کافر دل و زبان سے ایمان لا کر کفر و شرک سے ایمان کی طرف لوٹ سکتا ہے،
کیونکہ توبہ کا اصل معنی رجوع اور واپسی ہے،
یعنی وہ نبی جس کے ذریعہ کفر سے ایمان کی طرف لوٹا جا سکتا ہے،
یا اس لیے کہ پہلی امتوں کو بعض گناہوں کی توبہ کی صورت میں اپنے آپ کو قتل کرنا پڑتا تھا،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قبول توبہ کے لیے دل و زبان کا اعتقاد و اقرار ہی کافی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4312]
Sahih Muslim Hadith 4312 in Urdu
إسحاق بن يوسف الأزرق ← الفضيل بن غزوان الضبي