صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تغليظ تحريم الدماء والاعراض والاموال:
باب: خون اور عزت اور مال کا حق کیسا سخت ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1679 ترقیم شاملہ: -- 4384
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ، فَقَالَ " أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ؟، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ؟، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ "، قَالَ: ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُزَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا،
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب وہ دن تھا، (جس کا آگے ذکر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک انسان نے اس کی لگام پکڑ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں، فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ کہا: ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے (معروف) نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ البلدہ (حرمت والا شہر) نہیں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری ناموس (عزتیں) تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس شہر میں، اس مہینے میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے، یہاں موجود شخص غیر موجود کو یہ پیغام پہنچا دے۔“ کہا: پھر آپ دو چتکبرے (سفید و سیاہ) مینڈھوں کی طرف مڑے، انہیں ذبح کیا اور بکریوں کے گلے کی طرف (آئے) اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4384]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب وہ دن (قربانی کا دن) آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھ گئے اور ایک انسان نے اس کی نکیل پکڑ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا، اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں حتی کہ ہم نے یہ خیال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا نام، اس کے نام کے علاوہ رکھیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا، ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”تو یہ مہینہ کون سا ہے؟“ ہم نے کہا، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا، کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”تو یہ کون سا شہر ہے؟“ حتی کہ ہم نے خیال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا البلدہ (مکہ) نہیں ہے؟“ ہم نے کہا، جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارے خون، مال اور عزتیں تم پر حرام ہیں، جس طرح یہ دن، تمہارے اس ماہ میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے تو موجود، غیر موجود تک پہنچا دے۔“ راوی کہتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سرمئی مینڈھوں کی طرف پلٹے اور انہیں ذبح کیا اور بکریوں کے ایک گلے (گروہ) کی طرف پلٹے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1679
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي | ثقة | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية يزيد بن زريع العيشي ← عبد الله بن عون المزني | ثقة ثبت | |
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو نصر بن علي الأزدي ← يزيد بن زريع العيشي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4384 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4384
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ثم انكفاء:
سے آخر تک کا جملہ راوی کا وہم ہے،
اس کا تعلق خطبہ عید الاضحیٰ سے ہے،
جس کو راوی نے خطبہ حج سے ملا دیا ہے،
اس لیے امام بخاری نے یہ ٹکڑا حذف کر دیا ہے،
ابن عون کی حدیث میں یہ جملہ موجود ہے،
لیکن آگے قرۃ کی روایت میں موجود نہیں ہے اور اس حدیث میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اشهر حرم کی حرمت اب بھی برقرار ہے،
اس لیے اس میں جنگ کا آغاز کرنا یا باہمی قتل و قتال کرنا جائز نہیں ہے،
ہاں،
اگر دشمن حملہ آور ہو تو مدافعت میں جنگ کرنا درست ہے۔
فوائد ومسائل:
ثم انكفاء:
سے آخر تک کا جملہ راوی کا وہم ہے،
اس کا تعلق خطبہ عید الاضحیٰ سے ہے،
جس کو راوی نے خطبہ حج سے ملا دیا ہے،
اس لیے امام بخاری نے یہ ٹکڑا حذف کر دیا ہے،
ابن عون کی حدیث میں یہ جملہ موجود ہے،
لیکن آگے قرۃ کی روایت میں موجود نہیں ہے اور اس حدیث میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اشهر حرم کی حرمت اب بھی برقرار ہے،
اس لیے اس میں جنگ کا آغاز کرنا یا باہمی قتل و قتال کرنا جائز نہیں ہے،
ہاں،
اگر دشمن حملہ آور ہو تو مدافعت میں جنگ کرنا درست ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4384]
عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي