🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب حد السرقة ونصابها:
باب: چوری کی حد اور اس کے نصاب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1687 ترقیم شاملہ: -- 4409
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: إِنْ سَرَقَ حَبْلًا وَإِنْ سَرَقَ بَيْضَةً.
عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، البتہ وہ کہتے ہیں: وہ خواہ رسی چرائے، خواہ انڈہ چرائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4409]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے اعمش ہی کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا روایت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ رسی چوری کرتا ہے اور اگر وہ انڈا چوری کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1687
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمدثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة مأمون
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← علي بن خشرم المروزي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان
Newعمرو بن محمد الناقد ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4409 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4409
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہاتھ کے مقابلہ میں جو چیز حاصل کی ہے،
وہ حقیر اور معمولی ہے،
لیکن اس کے عوض ہاتھ جیسی قیمتی چیز گنوا بیٹھا یا یہ مقصد ہے کہ چوری کا آغاز حقیر اور معمولی چیز سے کرتا ہے،
پھر بڑی چیز چراتا ہے،
جس کی قیمت تین درہم بنتی ہے تو ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے،
ورنہ بیضہ (انڈا)
اگر ایک ہو تو رسی یا رسی معمولی ہو تو رسی پر تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا،
الا یہ کہ ان دونوں اشیاء سے مراد ان کی جنس ہو کہ جب یہ تین درہم تک پہنچتی ہیں تو ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے یا بیضہ سے مراد خود اور حبل سے مراد کشتی لنگر انداز کرنے کا رسہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4409]