🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب رجم اليهود اهل الذمة في الزنا:
باب: ذمی یہودی کو زنا میں سنگسار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1700 ترقیم شاملہ: -- 4441
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُبِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الْآيَةِ.
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اس قول تک، اسی طرح حدیث بیان کی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ انہوں نے اس کے بعد کا، آیات کے نازل ہونے والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4441]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے اعمش ہی کی مذکورہ سند سے مذکورہ بالا حدیث، صرف یہاں تک بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے رجم کر دیا گیا، آیات کے نزول کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4441]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1700
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمدثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4441 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4441
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فتح الباری ج 12،
ص 157 میں ہے،
تحميم الوجه یعنی راکھ سے ملا ہوا گرم پانی ڈالنا،
مراد کوئلے سے منہ کالا کرنا ہے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ایک زانی کو اپنے احبار کی تجویز کردہ سزا دے کر لے جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تورات کا حکم پوچھا،
جس سے ظاہر ہوتا ہے،
یہ واقعہ اور ہے اور حضرت ابن عمر روایت میں بیان کردہ واقعہ اور ہے،
کیونکہ اس میں تو اہل فدک نے جوڑے کو بھیجا ہی اس غرض سے تھا کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائیں اور ان کے آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی درس گاہ میں گئے تھے اور ان سے تورات کا حکم پوچھا تھا اور حضرت عبداللہ بن سلام کے کہنے پر ان کو تورات لانے کے لیے کہا تھا،
جیسا کہ بخاری شریف باب الرجم في البلاط میں ہے،
(قال عبدالله بن سلام،
ادعهم يا رسول الله بالتوراة)
اور اس واقعہ میں تورات لانے کا تذکرہ نہیں ہے،
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طور پر ان سے پوچھا اور ان کے ایک عالم کے بتانے پر،
اس مرد کو رجم کرنے کا حکم دیا اور پہلا رجم ایک یہودی کا ہوا،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں تیرے حکم کو زندہ کرنے والا پہلا فرد ہوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4441]