یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب جواز الإغارة على الكفار الذين بلغتهم دعوة الإسلام من غير تقدم الإعلام بالإغارة:
باب: جن کافروں کو دین کی دعوت پہنچ چکی ہو ان پر بغیر دعوت دیئے حملہ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1730 ترقیم شاملہ: -- 4520
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُكَّ.
ابن ابی عدی نے ابن عون سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہا، شک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4520]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث ایک اور استاد سے، ابن عون کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں اور اس نے بلاشک و شبہ یہ کہا ہے کہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1730
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو محمد بن إبراهيم السلمي ← عبد الله بن عون المزني | ثقة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن إبراهيم السلمي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4520 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4520
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
جن لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے،
جنگ کا آغاز کرنے سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا ضروری نہیں ہے،
اقدامی حملہ پہلے ہو سکتا ہے،
جمہور کا یہی موقف ہے،
اگرچہ امام مالک،
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک،
ہر حالت میں لڑائی سے پہلے دعوت دینا ضروری ہے اور بقول بعض کسی صورت میں بھی دعوت دینے کی ضرورت نہیں،
لیکن یہ دونوں موقف درست نہیں (نووی)
،
آغاز اسلام میں چونکہ اسلام کی دعوت پھیلی نہیں تھی،
اس لیے اس وقت اسلام کی دعوت دینا ضروری تھا اور جب اسلام کا پیغام عام ہو گیا،
سب تک دعوت پہنچ گئی تو اب دوبارہ دعوت دینا ضروری نہیں ہے،
اس لیے آپ نے بنو مصطلق پر اچانک حملہ کیا تھا اور ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا اس حملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگی تھیں،
اس سے معلوم ہوا دشمن کی طرف پیش قدمی کرنا جائز ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
جن لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے،
جنگ کا آغاز کرنے سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا ضروری نہیں ہے،
اقدامی حملہ پہلے ہو سکتا ہے،
جمہور کا یہی موقف ہے،
اگرچہ امام مالک،
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک،
ہر حالت میں لڑائی سے پہلے دعوت دینا ضروری ہے اور بقول بعض کسی صورت میں بھی دعوت دینے کی ضرورت نہیں،
لیکن یہ دونوں موقف درست نہیں (نووی)
،
آغاز اسلام میں چونکہ اسلام کی دعوت پھیلی نہیں تھی،
اس لیے اس وقت اسلام کی دعوت دینا ضروری تھا اور جب اسلام کا پیغام عام ہو گیا،
سب تک دعوت پہنچ گئی تو اب دوبارہ دعوت دینا ضروری نہیں ہے،
اس لیے آپ نے بنو مصطلق پر اچانک حملہ کیا تھا اور ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا اس حملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگی تھیں،
اس سے معلوم ہوا دشمن کی طرف پیش قدمی کرنا جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4520]
Sahih Muslim Hadith 4520 in Urdu
محمد بن إبراهيم السلمي ← عبد الله بن عون المزني