صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب حكم الفيء:
باب: جو مال کافروں کا بغیر لڑائی کے ہاتھ آئے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1757 ترقیم شاملہ: -- 4576
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4576]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے، زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4576]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1757
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة ثبت إمام |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4576 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4576
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فے کا مال امیر کے تصرف میں ہوتا ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لیے خرچ کرتا ہے اور اس سے جنگی سازوسامان خرید سکتا ہے اور اس سے خمس نہیں نکالا جاتا۔
اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سال بھر کا نفقہ رکھ لینا توکل کے منافی نہیں ہے،
جمہور کا یہی موقف ہے،
لیکن امام شافعی کے نزدیک فئی سے بھی خمس نکالا جائے گا اور وہ خمس کے حقداروں میں تقسیم ہو گا،
باقی مال امام کے اختیار میں ہو گا،
جہاں مناسب سمجھے گا،
خرچ کرے گا،
اپنے گھر کے لیے نان و نفقہ بھی رکھ سکے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فے کا مال امیر کے تصرف میں ہوتا ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لیے خرچ کرتا ہے اور اس سے جنگی سازوسامان خرید سکتا ہے اور اس سے خمس نہیں نکالا جاتا۔
اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سال بھر کا نفقہ رکھ لینا توکل کے منافی نہیں ہے،
جمہور کا یہی موقف ہے،
لیکن امام شافعی کے نزدیک فئی سے بھی خمس نکالا جائے گا اور وہ خمس کے حقداروں میں تقسیم ہو گا،
باقی مال امام کے اختیار میں ہو گا،
جہاں مناسب سمجھے گا،
خرچ کرے گا،
اپنے گھر کے لیے نان و نفقہ بھی رکھ سکے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4576]
معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري