علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
82. باب إثبات الشفاعة وإخراج الموحدين من النار:
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
ترقیم عبدالباقی: 184 ترقیم شاملہ: -- 458
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَا: فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ: الْحَيَاةُ، وَلَمْ يَشُكَّا، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ، أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ.
وہیب اور خالد دونوں نے عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ اس میں ہے: ”انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے الحیاۃ کہا جاتا ہے۔“ اور دونوں نے (پچھلی روایت کی طرح اس لفظ میں) کوئی شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں (یہ) ہے: ”جس طرح کوڑا کرکٹ (سیلاب میں بہ کر آنے والے مختلف قسم کے بیج) سیلاب کے کنارے اگتے ہیں۔“ اور وہیب کی روایت میں ہے: ”جس طرح چھوٹا سا بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 458]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے: ”اور وہ ایک ایسی نہر میں ڈالے جائیں گے جس کو ’زندگی‘ کی نہر کہا جائے گا-“ دونوں نے اس میں شک نہیں کیا۔ اور خالد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جس طرح کوڑا کرکٹ اگتا ہے سیلاب کے کنارے۔“ اور وہیب رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جس طرح قدرتی بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (456)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 458 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 458
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
الْغُثَاءَةُ:
سیلاب کے پانی کی جھاگ میں کوڑا کرکٹ یا درختوں کے گلے سڑے پتے جو سیلاب کے جھاگ میں ملے جلے ہوں۔
(2)
حَمِئَةٌ:
سیاہ گارا۔
(3)
حَمِيلَةٌ:
غثاء کو کہتے ہیں،
یعنی سیلاب کے ساتھ آنے والا کوڑا کرکٹ۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
الْغُثَاءَةُ:
سیلاب کے پانی کی جھاگ میں کوڑا کرکٹ یا درختوں کے گلے سڑے پتے جو سیلاب کے جھاگ میں ملے جلے ہوں۔
(2)
حَمِئَةٌ:
سیاہ گارا۔
(3)
حَمِيلَةٌ:
غثاء کو کہتے ہیں،
یعنی سیلاب کے ساتھ آنے والا کوڑا کرکٹ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 458]
Sahih Muslim Hadith 458 in Urdu
خالد بن عبد الله الطحان ← عمرو بن يحيى الأنصاري