صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب ما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من اذى المشركين والمنافقين:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں اور منافقوں کے ہاتھ سے جو تکلیف پائی اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1796 ترقیم شاملہ: -- 4655
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنُكِبَتْ إِصْبَعُهُ.
ابن عیینہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر میں تھے اور (وہاں) آپ کی انگلی زخمی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4655]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ سے، اسود بن قیس ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غار میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پتھر سے زخمی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1796
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس | ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← الأسود بن قيس العبدي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← إسحاق بن راهويه المروزي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4655 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4655
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
غار:
سے مراد بعض کے نزدیک لشکر اور جماعت ہے اور بعض کے نزدیک پہاڑ کی غار،
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ایک جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کی غار میں تھے،
نماز کے لیے نکلے تو پتھر لگنے سے انگلی زخمی ہو گئی،
اس لیے روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے اور غار کا معنی لشکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے،
رہا یہ مسئلہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر کہا ہے تو اس کا بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ رجز ہے،
شعر نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے،
جس کلام کو قصد اور ارادہ سے موزوں اور مقفی کیا جائے،
وہ شعر ہوتا ہے اور جو کلام غیر ارادی طور پر موزوں ہو جائے،
اس کو شعر نہیں کہا جاتا اور بقول بعض یہ شعر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے،
بلکہ عبداللہ بن رواحہ کا شعر ہے،
جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیل کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے اشعار پڑھ دیتے تھے۔
مفردات الحدیث:
غار:
سے مراد بعض کے نزدیک لشکر اور جماعت ہے اور بعض کے نزدیک پہاڑ کی غار،
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ایک جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کی غار میں تھے،
نماز کے لیے نکلے تو پتھر لگنے سے انگلی زخمی ہو گئی،
اس لیے روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے اور غار کا معنی لشکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے،
رہا یہ مسئلہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر کہا ہے تو اس کا بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ رجز ہے،
شعر نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے،
جس کلام کو قصد اور ارادہ سے موزوں اور مقفی کیا جائے،
وہ شعر ہوتا ہے اور جو کلام غیر ارادی طور پر موزوں ہو جائے،
اس کو شعر نہیں کہا جاتا اور بقول بعض یہ شعر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے،
بلکہ عبداللہ بن رواحہ کا شعر ہے،
جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیل کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے اشعار پڑھ دیتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4655]
Sahih Muslim Hadith 4655 in Urdu
سفيان بن عيينة الهلالي ← الأسود بن قيس العبدي