صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب وجوب الإنكار على الامراء فيما يخالف الشرع وترك قتالهم ما صلوا ونحو ذلك:
باب: اگر امیر شرع کے خلاف کوئی کام کرے تو اس کو برا جاننا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 1854 ترقیم شاملہ: -- 4803
وحَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ لَمْ يَذْكُرْهُ.
ابن مبارک نے ہشام سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے ضبہ بن محصن سے، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسی کے مانند بیان کیا، سوائے ان الفاظ کے: ”جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا“ یہ الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4803]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، مگر اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں، (لیکن جو راضی ہو گیا اور پیروی کی) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4803]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥ضبة بن محصن العنزي ضبة بن محصن العنزي ← أم سلمة زوج النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← ضبة بن محصن العنزي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥الحسن بن الربيع البوراني، أبو علي الحسن بن الربيع البوراني ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4803 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4803
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اگر حاکم خلاف شریعت کوئی حکم جاری کرے تو اس کو مسترد کرنا چاہیے،
اگر اس کو روکنا ممکن ہو تو لوگ مل کر روکیں،
وگرنہ زبان سے اس کا انکار کریں،
اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے اس کو بدلنے کی تدابیر سوچیں اور اس کو ناپسندیدہ تصور کریں اور کسی صورت میں اس کام کو قبول نہ کریں،
اس صورت میں،
وہ مؤاخذہ اور عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور گناہ سے بھی بچ جائیں گے۔
لیکن اگر وہ ان کاموں پر راضی ہو جائیں گے اور ان کو مان لیں گے،
تو گناہ کے مرتکب ہوں گے،
مواخذہ اور عذاب سے بچ نہیں سکیں گے،
لیکن جب حاکم اسلام کے بنیادی ارکان کی پابندی کریں،
تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے،
لیکن آج بدقسمتی سے،
دنیوی مفادات کو بنیاد بنا کر حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلائی جاتیں ہیں اور دین کے بنیادی ارکان کو لائق اعتناء نہیں سمجھا جاتا،
عوام ہر اس حکمران کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان کے دنیوی مفادات کا محافظ ہونا چاہیے وہ پانچوں عیوب سے متصف ہو،
اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی بیگانہ ہو،
فالی الله مشتكی۔
فوائد ومسائل:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اگر حاکم خلاف شریعت کوئی حکم جاری کرے تو اس کو مسترد کرنا چاہیے،
اگر اس کو روکنا ممکن ہو تو لوگ مل کر روکیں،
وگرنہ زبان سے اس کا انکار کریں،
اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے اس کو بدلنے کی تدابیر سوچیں اور اس کو ناپسندیدہ تصور کریں اور کسی صورت میں اس کام کو قبول نہ کریں،
اس صورت میں،
وہ مؤاخذہ اور عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور گناہ سے بھی بچ جائیں گے۔
لیکن اگر وہ ان کاموں پر راضی ہو جائیں گے اور ان کو مان لیں گے،
تو گناہ کے مرتکب ہوں گے،
مواخذہ اور عذاب سے بچ نہیں سکیں گے،
لیکن جب حاکم اسلام کے بنیادی ارکان کی پابندی کریں،
تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے،
لیکن آج بدقسمتی سے،
دنیوی مفادات کو بنیاد بنا کر حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلائی جاتیں ہیں اور دین کے بنیادی ارکان کو لائق اعتناء نہیں سمجھا جاتا،
عوام ہر اس حکمران کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان کے دنیوی مفادات کا محافظ ہونا چاہیے وہ پانچوں عیوب سے متصف ہو،
اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی بیگانہ ہو،
فالی الله مشتكی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4803]
ضبة بن محصن العنزي ← أم سلمة زوج النبي