صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب استحباب مبايعة الإمام الجيش عند إرادة القتال وبيان بيعة الرضوان تحت الشجرة:
باب: لڑائی کے وقت مجاہدین سے بیعت لینا مستحب ہے اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1857 ترقیم شاملہ: -- 4815
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ،
عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ (انہوں نے یہ تعداد اندازے سے بتائی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4815]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اصحابِ شجرہ تیرہ سو (1300) تھے، (میرا قبیلہ) اسلم، مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4815 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4815
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بیعت رضوان یا اصحاب شجرہ کی تعداد چودہ سو (1400)
تھی،
جیسا کہ خیبر کے حصوں کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے،
لیکن چونکہ ان کو گنا نہیں گیا تھا،
اس لیے اندازہ لگاتے ہوئے،
عام طور پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے چودہ سو کہا اور بعض دفعہ پندرہ سو کہہ دیا اور حضرت عبداللہ بن اپنے اندازہ کے مطابق تیرہ سو کہہ دیا،
یہ اپنے اپنے اندازے کا اختلاف ہے،
کیونکہ اندازے میں کمی و بیشی ہو جاتی ہے۔
فوائد ومسائل:
بیعت رضوان یا اصحاب شجرہ کی تعداد چودہ سو (1400)
تھی،
جیسا کہ خیبر کے حصوں کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے،
لیکن چونکہ ان کو گنا نہیں گیا تھا،
اس لیے اندازہ لگاتے ہوئے،
عام طور پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے چودہ سو کہا اور بعض دفعہ پندرہ سو کہہ دیا اور حضرت عبداللہ بن اپنے اندازہ کے مطابق تیرہ سو کہہ دیا،
یہ اپنے اپنے اندازے کا اختلاف ہے،
کیونکہ اندازے میں کمی و بیشی ہو جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4815]
Sahih Muslim Hadith 4815 in Urdu
عمرو بن مرة المرادي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي