صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب من قتل في سبيل الله كفرت خطاياه إلا الدين:
باب: شہید کا ہر گناہ شہادت کے وقت معاف ہو جاتا ہے سوائے قرض کے۔
ترقیم عبدالباقی: 1885 ترقیم شاملہ: -- 4882
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ . ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ.
عمرو بن دینار اور محمد بن عجلان نے محمد بن قیس سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، ان (عمرو اور ابن عجلان) میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ منبر پر تھے، اس نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی تلوار سے وار کروں؟ (کافر کو قتل کروں، پھر شہید کر دیا جاؤں، آگے) مقبری کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4882]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے حضرت ابو قتادہ ؓ کی روایت بیان کرتے ہیں، ایک دوسرے سے یہ زائد بیان کرتا ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فر تھے، اس نے کہا، بتائیے، اگر میں اپنی تلوار چلاؤں، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1885
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي