صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب تحريم تصوير صورة الحيوان وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه وان الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5520
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
(سعید بن یسار نے) کہا: (یہ حدیث سن کر) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں کسی طرح کی تصویریں ہوں۔)“ کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی جو انہوں نے بیان کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں (میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے) لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک موٹا سا کپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنا دیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے (دو ٹکڑے کر دیے اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔“) (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے (بنانے کے لیے دو ٹکڑے) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5520]
حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا، ان حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر و مجسمے ہوں۔“ تو کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں، لیکن میں تمہیں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ واقعہ سناتی ہوں، جو میرا چشم دید ہے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی غزوہ میں چلے گئے تو میں نے ایک جھول دار پردہ لیا اور اسے دروازے کا پردہ بنا دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس زین پوش کو دیکھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھینچ کر پھاڑ ڈالا، یا چیر ڈالا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں، پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔“ وہ بیان کرتی ہیں، ہم نے اس سے دو تکیے بنا لیے اور میں نے ان میں کھجور کی چھال بھر دی تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5520 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5520
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
نمط:
غالیچہ،
بستر کی چادر،
زین پوش،
ہودج پر ڈالے جانے والی اونی چادر۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
دیواروں پر خوبصورتی اور زیبائش کے لیے پردے لٹکانا پسندیدہ فعل نہیں ہے اور تصاویر کو پھاڑ کر،
اگر ان کو پامال کیا جائے،
تو ایسی صورت میں ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مفردات الحدیث:
نمط:
غالیچہ،
بستر کی چادر،
زین پوش،
ہودج پر ڈالے جانے والی اونی چادر۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
دیواروں پر خوبصورتی اور زیبائش کے لیے پردے لٹکانا پسندیدہ فعل نہیں ہے اور تصاویر کو پھاڑ کر،
اگر ان کو پامال کیا جائے،
تو ایسی صورت میں ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5520]
Sahih Muslim Hadith 5520 in Urdu