🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله:
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2124 ترقیم شاملہ: -- 5572
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
صخر بن جویریہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5572]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد نے اسی طرح سنائی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5572]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2124
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥صخر بن جويرية البصري، أبو نافع
Newصخر بن جويرية البصري ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← صخر بن جويرية البصري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بزيع البصري، أبو عبد الله
Newمحمد بن بزيع البصري ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5572 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5572
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الواشمة:
شم کرنے والی یعنی،
ہتھیلی کی پشت،
کلائی،
ہونٹ،
پیشانی یا عورت کے بدن کے کسی حصہ میں سوئی وغیرہ چبھو کو خون نکالنا پھر اس جگہ سرمہ یا نیل بھرنا تاکہ اس جگہ نقش ونگار بنائے جائیں اور مستوشمة،
وہ عورت ہے جو اس کا مطالبہ کرتی ہے،
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو حسن وجمال اور خوبصورتی بخشی ہے،
اس پر کفایت کرنا چاہیے،
اس میں تبدیلی کرنا،
انتہائی گھناؤنا جرم ہے،
جو لعنت کا مستحق ہے،
لیکن بدقسمتی سے مسلمان عورتیں مغربی اقوام سے نت نئے فیشن سیکھ رہی ہیں اور اس کے لیے مستقل طور پر بیوٹی پارلر کے نام دکانیں کھل گئی ہیں،
جن میں مصنوعی حسن وجمال کے حصول کے لیے بے انتہا،
پیسا،
ضائع ہورہا ہے،
ایک دور کا فیشن یہ تھا کہ عورتیں بالوں کے ساتھ جوڑ لگواتی تھیں اور آج کا فیشن بالوں کو کاٹنا ہے،
ناخن جن کو کاٹنے کا حکم ہے،
ان کو خونخواردرندوں کی طرح بڑھایا جاتا ہے اور ان پر سرخ یا اپنے ہم رنگ پالش لگائی جاتی ہے،
حالانکہ ناخنوں پر گہری پالش سے وضو بھی مشکوک ہوجاتا ہے،
اکثر علماء کے نزدیک اس صورت میں وضو نہیں ہوتا،
کیونکہ ناخنوں پر پالش ہونے کی وجہ سے،
وہ صحیح طور پر دھل نہیں پاتے،
مزید برآں یہ کافروں کی نشانی ہے،
جو پسندیدہ نہیں ہے،
اگر یہ ان کا شعار ہوتو پھر حرام ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5572]