🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب الاستئذان:
باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2153 ترقیم شاملہ: -- 5631
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ، فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، قَالَ: لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا: ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت طلب کی تو جیسے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو، (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے، دوسرے دن) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی (کرنے کا) حکم دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اس پر گواہی دلاؤ، نہیں تو میں (وہ) کروں گا (جو کروں گا) وہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انہوں نے کہا: اس بات پر تمہارے حق میں اور کوئی نہیں، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے) کھڑے ہو کر کہا: ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں) اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا، بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5631]
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تین دفعہ اجازت مانگی، گویا کہ وہ کسی کام میں مشغول تھے (اس لیے اجازت نہ دے سکے) تو وہ واپس آ گئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خادم سے کہا، کیا تو نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی، اسے اجازت دو، (بعد میں) انہیں بلوایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، آپ نے یہ حرکت کیوں کی، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، ہمیں یہی حکم دیا جاتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر دلیل قائم کر دی، میں تم سے برا سلوک کروں گا تو وہ نکل کر انصار کی ایک مجلس کی طرف چل پڑے، انہوں نے کہا، اس مسئلہ میں آپ کے حق میں، ہم میں سے سب سے کم سن ہی گواہی دے گا تو ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر گئے اور کہا، ہمیں یہی حکم دیا جاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مجھ سے مخفی رہ گیا، مجھے اس سے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5631]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسى
Newعبد الله بن قيس الأشعري ← أبو سعيد الخدري
صحابي
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم
Newعبيد بن عمير الجندعي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبيد بن عمير الجندعي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← ابن جريج المكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← يحيى بن سعيد القطان
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5631 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5631
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے امیر المؤمنین ہونے کے باوجود،
اپنے عدم علم کا اعتراف کیا اور اپنی اس کوتاہی کا سبب بھی بتا دیا،
گویا اپنی کوتاہی کے اعتراف کو اپنے لیے عار اور شرمندگی کا باعث نہیں سمجھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5631]