الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب من اتى مجلسا فوجد فرجة فجلس فيها وإلا وراءهم:
باب: جو کوئی مجلس میں آئے اور صف میں جگہ پائے تو بیٹھ جائے، نہیں تو پیچھے بیٹھے۔
ترقیم عبدالباقی: 2176 ترقیم شاملہ: -- 5682
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى.
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5682]
امام صاحب کو ایک اور استاد نے اس کے ہم معنی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5682]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2176
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5682 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5682
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اہل علم کو کھلی جگہ میں دینی مجالس کے قائم کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اس میں علمی و دینی مسائل پر گفتگو ہو سکے اور بہتر یہ ہے کہ علم و واعظ کی مجالس مساجد میں منعقد کی جائیں اور بعد میں آنے والے افراد اگر مجلس کے اندر گنجائش دیکھیں تو پہلے اس خالی جگہ کو پُر کریں،
اگرچہ اس کی خاطر انہیں گردنوں کو پھلانگنا پڑے اور اگر حلقہ کے اندر جگہ نہ ہو تو جہاں جگہ ملے،
وہاں بیٹھ جانا چاہیے،
کیونکہ مجالس علمی میں شرکت اجروثواب کا باعث ہے اور ان سے اعراض کرنا اپنے آپ کو اللہ کی رحمت اور اجروثواب سے محروم رکھنا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
دوسروں کے لیے رغبت و شوق پیدا کرنے کے لیے،
اچھا کام کرنے والے کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے اور کسی کام سے نفرت دلانے کے لیے اس کام کرنے والے پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اہل علم کو کھلی جگہ میں دینی مجالس کے قائم کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اس میں علمی و دینی مسائل پر گفتگو ہو سکے اور بہتر یہ ہے کہ علم و واعظ کی مجالس مساجد میں منعقد کی جائیں اور بعد میں آنے والے افراد اگر مجلس کے اندر گنجائش دیکھیں تو پہلے اس خالی جگہ کو پُر کریں،
اگرچہ اس کی خاطر انہیں گردنوں کو پھلانگنا پڑے اور اگر حلقہ کے اندر جگہ نہ ہو تو جہاں جگہ ملے،
وہاں بیٹھ جانا چاہیے،
کیونکہ مجالس علمی میں شرکت اجروثواب کا باعث ہے اور ان سے اعراض کرنا اپنے آپ کو اللہ کی رحمت اور اجروثواب سے محروم رکھنا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
دوسروں کے لیے رغبت و شوق پیدا کرنے کے لیے،
اچھا کام کرنے والے کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے اور کسی کام سے نفرت دلانے کے لیے اس کام کرنے والے پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5682]
يحيى بن أبي كثير الطائي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري