🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب من فضائل ام سلمة ام المؤمنين رضي الله عنها:
باب: ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2451 ترقیم شاملہ: -- 6315
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كلاهما، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَمَّادٍ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: " لَا تَكُونَنَّ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ، وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا، فَإِنَّهَا مَعْرَكَةُ الشَّيْطَانِ وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ، قَالَ: وَأُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ، مَنْ هَذَا، أَوْ كَمَا قَالَ؟ قَالَتْ: هَذَا دِحْيَةُ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ، حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَنَا، أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ".
معتمر بن سلیمان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، کہا: ہمیں ابوعثمان نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں مت جا اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکل، کیونکہ بازار شیطان کا میدان جنگ ہے اور وہیں وہ اپنا جھنڈا گاڑتا ہے۔ (ابوعثمان نہدی نے) کہا: اور مجھے خبر دی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگے، پھر کھڑے ہوئے (یعنی چلے گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کون شخص تھے؟ انہوں نے کہا کہ دحیہ کلبی تھے۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم تو انہیں دحیہ کلبی ہی سمجھے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر بیان کرتے تھے۔ میں (راوی حدیث) نے کہا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6315]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں مت جا اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکل، کیونکہ بازار شیطان کا میدان جنگ ہے اور وہیں وہ اپنا جھنڈا گاڑتا ہے۔ (ابو عثمان نہدی نے) کہا: اور مجھے خبر دی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگے، پھر کھڑے ہوئے (یعنی چلے گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کون شخص تھے؟ انہوں نے کہا کہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم تو انہیں دحیہ کلبی ہی سمجھے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر بیان کرتے تھے۔ میں (راوی حدیث) نے کہا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2451
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥سلمان الفارسي، أبو عبد الله
Newسلمان الفارسي ← أسامة بن زيد الكلبي
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سلمان الفارسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
👤←👥عبد الأعلى بن حماد الباهلي، أبو يحيى
Newعبد الأعلى بن حماد الباهلي ← محمد بن عبد الأعلى القيسي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6315 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6315
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لاتكونن اول من يدخل:
بازار میں سب سے پہلے جانا،
یا سب سے آخر میں نکلنا،
اس بات کی علامت ہے کہ اس انسان کو بازار جانے کا شوق و ذوق ہے اور بازار سے محبت ہے،
حالانکہ بازار محبت گاہ نہیں ہے،
ایک ضرورت کی جگہ ہے،
جہاں بقدر ضرورت رہنا چاہیے،
(2)
معركة الشيطان:
شیطان کی رزم گاہ ہے،
یہاں شیطان اور اس کے چیلے چانٹوں اور بازار میں موجود دوکانداروں اور گاہکوں کے درمیان معرکہ برپا ہوتا ہے،
وہ اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر لوگوں سے خلاف دین و شریعت کام کروانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے پیچھے لگ کر لوگ خلاف شریعت امور کے مرتکب ہوتے ہیں،
اس لیے بها ينصب رأيه،
وہ بازار میں جھنڈے گاڑتا ہے اور اپنے اعوان و انصار کو بازار میں جھونکتا ہے،
تاکہ وہ لوگوں کو غلط کاموں پر اکسائیں اور ان کی معیشت و معاشرت میں نقب لگائیں،
(3)
يخبر خبرنا:
آپ نے گھر میں پیش آمدہ واقعہ کا خطبہ میں تذکرہ فرمایا اور جبریل کے آنے کی خبر دی،
چونکہ حضرت جبریل علیہ السلام عموماً حضرت دحیہ کلبی کی صورت میں آتے تھے،
جو کہ انتہائی حسین و جمیل تھے،
اس لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہی خیال کیا،
اس لیے يخبر خبرنا کہنا یا يخبر خبر جبريل کہنا،
دونوں طرح صحیح ہے اس لئے اس کو مسلم شریف کی حدیث میں تصحیف و تبدیلی قرار دینا،
درست نہیں ہے۔
جیسا کہ علامہ تقی حفظہ اللہ قاضی عیاض سے تصحیف کا قول نقل کیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6315]

Sahih Muslim Hadith 6315 in Urdu