یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب من فضائل ام ايمن رضي الله عنها:
باب: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2454 ترقیم شاملہ: -- 6318
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لیے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6318]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لیے چلو، ہم ان سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن کے اس کہنے سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2454
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6318 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6318
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا اپنے بزرگوں،
اپنے محسنوں اور اپنے محسنوں کے اقرباء اور احباب کی ملاقات کے لیے جانا پسندیدہ عمل ہے اور ان کے اللہ کے ہاں بلند درجات و مراتب کے باوجود ان کے فراق پر گریہ کرنا درست ہے اور اپنے کسی دوست و عزیز کو بھی ساتھ لے جایا جا سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا اپنے بزرگوں،
اپنے محسنوں اور اپنے محسنوں کے اقرباء اور احباب کی ملاقات کے لیے جانا پسندیدہ عمل ہے اور ان کے اللہ کے ہاں بلند درجات و مراتب کے باوجود ان کے فراق پر گریہ کرنا درست ہے اور اپنے کسی دوست و عزیز کو بھی ساتھ لے جایا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6318]
Sahih Muslim Hadith 6318 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري