یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب من فضائل ابي ذر رضي الله عنه:
باب: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2473 ترقیم شاملہ: -- 6361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا ابْنَ أَخِي، صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَتَنَافَرَا إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُهَّانِ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّى غَلَبَهُ، قَالَ: فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَى صِرْمَتِنَا، وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ: قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَإِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: قُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ مَنْ أَنْتَ؟ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، فَقَالَ: مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَاهُنَا؟ قَالَ: قُلْتُ: مُنْذُ خَمْسَ عَشَرَةَ وَفِيهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ؟.
ابن عون نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کی، کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھی ہے، کہا: میں نے پوچھا: آپ کس طرف رخ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس طرح اللہ تعالیٰ میرا رخ کر دیتا تھا۔ پھر (ابن عون نے) سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ کہا: (ان دونوں کا آپس میں مقابلہ کاہنوں میں سے ایک آدمی کے سامنے ہوا اور میرا بھائی انیس اشعار میں مسلسل اس (کاہن) کی مدح کرتا رہا یہاں تک کہ اس شخص پر غالب آ گیا تو ہم نے اس کا گلہ بھی لے لیا اور اسے اپنے گلے میں شامل کر لیا)۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا: (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں۔ کہا: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص ہوں جس نے آپ کو اسلامی طریقے سے سلام کیا۔ تو کہا: میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلامتی ہو! تم کون ہو؟“ اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے: آپ نے پوچھا: ”تم کتنے دنوں سے یہاں ہو؟“ کہا: میں نے عرض کی: پندرہ دن سے، اور اس میں یہ (بھی) ہے کہ کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی آج رات کی میزبانی بطور تحفہ مجھے عطا کر دیجیے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6361]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھی ہے، کہا: میں نے پوچھا: آپ کس طرف رخ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس طرح اللہ تعالیٰ میرا رخ کر دیتا تھا؟ پھر (ابن عون نے) سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ کہا: ان دونوں کا آپس میں مقابلہ کاہنوں میں سے ایک آدمی کے سامنے ہوا اور میرا بھائی انیس (اشعار میں مسلسل) اس (کاہن) کی مدح کرتا رہا یہاں تک کہ اس شخص پر غالب آ گیا تو ہم نے اس کا گلہ بھی لے لیا اور اسے اپنے گلے میں شامل کر لیا۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا: (حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں۔ کہا: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص ہوں جس نے آپ کو اسلامی طریقے سے سلام کیا۔ تو کہا: میں نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”سلام ہو آپ پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم “!! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”اور تم پر بھی سلامتی ہو“! تم کون ہو؟“ اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کتنے دنوں سے یہاں ہو؟“ کہا: میں نے عرض کی: پندرہ دن سے، اور اس میں یہ (بھی) ہے کہ کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی آج رات کی میزبانی بطور تحفہ مجھے عطا کر دیجیے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2473
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6361 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6361
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لم يزل اخي يمدحه:
میرا بھائی کاہن کی تعریف میں شعر کہتا رہا،
اس کا مدمقابل شعر نہ کہہ سکا،
اس لیے کاہن نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
(2)
تنافرا:
اس کے پاس فیصلہ لے گئے،
کاہن کا حکم تسلیم کر لیا۔
(3)
اتحفني:
مجھے عزت و شرف بخشیے،
مجھے موقعہ دیجئے۔
(4)
اتحفني مندخمس عشرة:
گزشتہ حدیث میں تیس دن رات کہا ہے،
اگر دن،
رات کو الگ الگ شمار کر لیں تو تیس ہوں گے،
اگر دن،
رات کو ایک دن قرار دیں،
تو پندرہ دن ہوں گے،
یا پندرہ دن سے زیادہ اور مہینہ سے کم دن ہوں گے،
اس لیے بعض نے پندرہ کہا اور بعض راویوں نے ماہ کے اعتبار سے تیس کہہ دیا۔
مفردات الحدیث:
(1)
لم يزل اخي يمدحه:
میرا بھائی کاہن کی تعریف میں شعر کہتا رہا،
اس کا مدمقابل شعر نہ کہہ سکا،
اس لیے کاہن نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
(2)
تنافرا:
اس کے پاس فیصلہ لے گئے،
کاہن کا حکم تسلیم کر لیا۔
(3)
اتحفني:
مجھے عزت و شرف بخشیے،
مجھے موقعہ دیجئے۔
(4)
اتحفني مندخمس عشرة:
گزشتہ حدیث میں تیس دن رات کہا ہے،
اگر دن،
رات کو الگ الگ شمار کر لیں تو تیس ہوں گے،
اگر دن،
رات کو ایک دن قرار دیں،
تو پندرہ دن ہوں گے،
یا پندرہ دن سے زیادہ اور مہینہ سے کم دن ہوں گے،
اس لیے بعض نے پندرہ کہا اور بعض راویوں نے ماہ کے اعتبار سے تیس کہہ دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6361]
Sahih Muslim Hadith 6361 in Urdu
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري