صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب فضائل عبد الله بن عباس رضي الله عنهما:
باب: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2477 ترقیم شاملہ: -- 6368
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: مَنْ وَضَعَ هَذَا؟ " فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ، قَالُوا: وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ: اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ.
زہیر بن حرب اور ابوبکر بن نضر نے کہا: ہمیں ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ورقاء بن عمر یشکری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عبید اللہ بن ابی یزید کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر (انسانوں سے) خالی علاقے میں تشریف لے گئے میں نے (اس دوران میں) آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا۔ جب آپ آئے تو آپ نے پوچھا: ”یہ پانی کس نے رکھا ہے؟“ (زہیر کی روایت میں ہے: لوگوں نے کہا۔ اور ابوبکر کی روایت میں ہے: میں نے کہا)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کا گہرا فہم عطا کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6368]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،قضائے حاجت کے لیے آئے تو میں نے آپ کے لیے پانی رکھا تو جب آپ باہر نکلے،آپ نے پوچھا،"یہ کس نے رکھا؟"زہیر کی روایت میں ہے،قالوا،گھر والوں نے کہا اور ابوبکر کی روایت میں ہے،میں نے کہا،ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،اے اللہ،اسے(دین کی) سوجھ بوجھ عنایت فرما۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2477
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6368 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6368
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر،
حضرت ابن عباس کی ذہانت اور فطانت پر خوش ہو کر اس کے مناسب مختلف کلمات سے دعا دی ہے،
بعض دفعہ فرمایا:
اللهم فقهه فی الدين،
یا اللهم علمه الكتاب،
یا علمه الحكمة،
بعض دفعہ فرمایا،
اللهم فقهه فی الدين و علمه التاويل یا علمه الحكمة و تاويل الكتاب،
اس بنا پر انہیں ترجمان القرآن کا لقب ملا۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر،
حضرت ابن عباس کی ذہانت اور فطانت پر خوش ہو کر اس کے مناسب مختلف کلمات سے دعا دی ہے،
بعض دفعہ فرمایا:
اللهم فقهه فی الدين،
یا اللهم علمه الكتاب،
یا علمه الحكمة،
بعض دفعہ فرمایا،
اللهم فقهه فی الدين و علمه التاويل یا علمه الحكمة و تاويل الكتاب،
اس بنا پر انہیں ترجمان القرآن کا لقب ملا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6368]
عبيد الله بن أبي يزيد المكي ← عبد الله بن العباس القرشي