صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب بيان معنٰي قوله صلى الله عليه وسلم : «علٰي راس مائة سنة لا يبقٰي نفس منفوسة ممن هو موجود الآن »
باب: ”جو لوگ اس وقت زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں ہو گا“ کا مطلب۔
ترقیم عبدالباقی: 2539 ترقیم شاملہ: -- 6485
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ ".
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو اس کے بعد لوگوں نے آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو سال نہیں گزریں گے کہ آج زمین پر سانس لیتا ہوا کوئی شخص موجود ہو۔“ (اس سے پہلے یہ سب ختم ہو جائیں گے۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6485]
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لے آئے،لوگوں نے آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"سو سال نہیں آئیں گے کہ آج زندہ نفوس میں سے کوئی زمین پر موجود ہو۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري