صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم الهجر فوق ثلاث بلا عذر شرعي:
باب: بغیر عذر شرعی کے تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے خفا رہنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2560 ترقیم شاملہ: -- 6532
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے (قطع تعلق کر کے رکھے کہ) دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6532]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زائد چھوڑ دے کہ باہمی ملیں تو یہ ادھر منہ کر لے، وہ ادھر منہ کر لے، ان میں سے بہتر وہی ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6532]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب | صحابي | |
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عطاء بن يزيد الجندعي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت إمام |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6532 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6532
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ان يهجر:
ترک کر دے،
چھوڑ دے،
یعنی آمنا سامنا ہو جائے تو گفتگو کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے منہ پھر لیں،
لیکن انسان کی فطرت اور مزاج کا لحاظ رکھتے ہوئے،
تین دن تک انسان گناہ ہونے سے محفوظ رہتا ہے،
ہاں اگر کوئی شرعی تقاضا ہو کہ اس کے ساتھ بول چال سے شرعی حدود کے پامال ہونے کی صورت پیدا ہوتی ہے تو پھر ترک تعلقات جائز ہے یا بطور تادیب اور سرزنش جائز ہے۔
مفردات الحدیث:
ان يهجر:
ترک کر دے،
چھوڑ دے،
یعنی آمنا سامنا ہو جائے تو گفتگو کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے منہ پھر لیں،
لیکن انسان کی فطرت اور مزاج کا لحاظ رکھتے ہوئے،
تین دن تک انسان گناہ ہونے سے محفوظ رہتا ہے،
ہاں اگر کوئی شرعی تقاضا ہو کہ اس کے ساتھ بول چال سے شرعی حدود کے پامال ہونے کی صورت پیدا ہوتی ہے تو پھر ترک تعلقات جائز ہے یا بطور تادیب اور سرزنش جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6532]
Sahih Muslim Hadith 6532 in Urdu
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري