🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب تحريم النميمة:
باب: چغل خوری حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2606 ترقیم شاملہ: -- 6636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا، وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ بدترین حرام کیا ہے؟ یہ چغلی ہے جو لوگوں کی زبان پر رواں ہو جاتی ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ (اللہ تعالیٰ کے ہاں) وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6636]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کون سی چیز تعلق ختم کرنے والی اور انتہائی سنگین جھوٹ ہے؟ چغل خوری اور لوگوں کے درمیان لگائی بجھائی ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی سچ بولتا ہے حتی کہ «صِدِّيق» لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ «كَذَّاب» (بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2606
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عوف بن مالك الجشمي، أبو الأحوص
Newعوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عوف بن مالك الجشمي
ثقة مكثر
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6636 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6636
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
العضه:
ٹکڑا،
قطعہ،
کیونکہ چغلی،
لوگوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیتی ہے۔
العضه:
جھوٹ،
جادو،
یہ بہت سنگین سخت حرام چیزالقالة بين الناس،
لوگوں میں پھیل جانے والی بات۔
فوائد ومسائل:
کسی کی ایسی بات دوسرے کو پہنچانا جو دوسرے آدمی کی بدگمانی اور ناراض کر کے باہمی تعلقات کو بگاڑ دے،
انتہائی سنگین جرم اور گناہ عظیم ہے،
کیونکہ اس سے باہمی بغض و عداوت اور مخالفت و منافرت جنم لیتی ہے،
جبکہ شریعت تعلقات کی درستی و خوشگواری اور باہمی ہمدردی و خیرخواہی کے جذبات ابھارنا چاہتی ہے،
علامہ زبیدی لنوعی نے لکھا ہے،
اکسانے،
بھڑکانے اور فساد ڈالنے کے لیے کسی کی بات کو پھیلانا نمیمہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6636]

Sahih Muslim Hadith 6636 in Urdu