🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب معنى كل مولود يولد على الفطرة وحكم موت اطفال الكفار واطفال المسلمين:
باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6767
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ صَبِيٌّ؟ فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا، وَلِهَذِهِ أَهْلًا ".
فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا: اس کے لیے خوشخبری ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6767]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک بچہ فوت ہو گیا تو میں نے کہا: اس کے لیے مسرت و شادمانی ہے، جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہے، اللہ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا ہے تو اس کے لیے بھی باشندے پیدا کیے ہیں اور اس کے لیے بھی اہل پیدا کیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عائشة بنت طلحة القرشية، أم عمران
Newعائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥الفضيل بن عمرو الفقيمي، أبو النضر
Newالفضيل بن عمرو الفقيمي ← عائشة بنت طلحة القرشية
ثقة
👤←👥العلاء بن المسيب الكاهلي
Newالعلاء بن المسيب الكاهلي ← الفضيل بن عمرو الفقيمي
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← العلاء بن المسيب الكاهلي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6767 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6767
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا،
اللہ جو انسان کا خالق ہے اور جنت و دوزخ کا بھی خالق ہے،
اسے ہی صحیح اور یقینی طور پر علم ہے کہ جنتی کون ہے اور دوزخی کون ہے،
اس کے بتائے بغیر اپنی طرف سے کسی کو جنتی اور دوزخی کہنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے،
معلوم ہوتا ہے،
یہ بات آپ نے اس دور میں فرمائی تھی،
جبکہ ابھی آپ کو بچوں کے جنتی ہونے کا علم نہیں تھا،
یا آپ نے ابھی دوسروں کو اس سے آگاہ نہیں فرمایا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6767]

Sahih Muslim Hadith 6767 in Urdu