صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب في الآدعية
باب: دعاؤں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2716 ترقیم شاملہ: -- 6895
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ".
منصور نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کی، کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: «اللہم انی اعوذ بک من شر ما عملت وشر ما لم اعمل» ”اے اللہ! جو میں نے کیا اس کے شر سے اور جو میں نے نہیں کیا، اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6895]
فروہ بن نوفل اشجعی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کون سی دعا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا، آپ یہ دعا کرتے تھے۔"اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں اور ان اعمال کے شر سے جو میں نے نہیں کیے ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6895]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6895 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6895
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی برے عمل کا سرزد ہوجانا اور اس طرح کسی اچھے اور نیک عمل کا رہ جانا،
دونوں ایسی چیزیں ہیں،
جن کے شر سے ہمیں پناہ مانگنی چاہیے،
لیکن آپ چونکہ اللہ کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے،
اس لیے سب سے زیادہ خشیت سے متصف تھے،
اس لیے آپ اچھے سے اچھے عمل کرنے اور برے اور گندے اعمال سے دامن بچانے کے باوجودیہ سمجھتے تھے کہ شاید کوئی نیک عمل جو مجھے کرنا چاہیے تھا،
میں وہ نہ کر سکا ہوں اور جو عمل میں نے کیے ہیں،
شاید وہ اس حد تک نہ پہنچ سکے ہوں،
جیسے وہ کرنے چاہیے تھے،
نیز آپ ہمارے لیے نمونہ عمل تھے،
اگر آپ یہ دعا نہ فرماتے تو ہمیں ان کا کیسے پتا چلتا اور ہمیں مانگنے کا اسلوب اور طریقہ کیسے آتا،
نیز ہم میں اچھے عمل کرنے اور برے اعمال کے بچنے سے عجب و غرور اور نیکی و پاکدامنی کا پندار پیداہو سکتا ہے،
جو انتہائی قبیح جرم ہے،
اس لیے ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے۔
فوائد ومسائل:
کسی برے عمل کا سرزد ہوجانا اور اس طرح کسی اچھے اور نیک عمل کا رہ جانا،
دونوں ایسی چیزیں ہیں،
جن کے شر سے ہمیں پناہ مانگنی چاہیے،
لیکن آپ چونکہ اللہ کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے،
اس لیے سب سے زیادہ خشیت سے متصف تھے،
اس لیے آپ اچھے سے اچھے عمل کرنے اور برے اور گندے اعمال سے دامن بچانے کے باوجودیہ سمجھتے تھے کہ شاید کوئی نیک عمل جو مجھے کرنا چاہیے تھا،
میں وہ نہ کر سکا ہوں اور جو عمل میں نے کیے ہیں،
شاید وہ اس حد تک نہ پہنچ سکے ہوں،
جیسے وہ کرنے چاہیے تھے،
نیز آپ ہمارے لیے نمونہ عمل تھے،
اگر آپ یہ دعا نہ فرماتے تو ہمیں ان کا کیسے پتا چلتا اور ہمیں مانگنے کا اسلوب اور طریقہ کیسے آتا،
نیز ہم میں اچھے عمل کرنے اور برے اعمال کے بچنے سے عجب و غرور اور نیکی و پاکدامنی کا پندار پیداہو سکتا ہے،
جو انتہائی قبیح جرم ہے،
اس لیے ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6895]
فروة بن نوفل الأشجعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق