🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب في الآدعية
باب: دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2716 ترقیم شاملہ: -- 6895
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ".
منصور نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کی، کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: «اللہم انی اعوذ بک من شر ما عملت وشر ما لم اعمل» اے اللہ! جو میں نے کیا اس کے شر سے اور جو میں نے نہیں کیا، اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6895]
فروہ بن نوفل اشجعی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کون سی دعا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا، آپ یہ دعا کرتے تھے۔"اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں اور ان اعمال کے شر سے جو میں نے نہیں کیے ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6895]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥فروة بن نوفل الأشجعي
Newفروة بن نوفل الأشجعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صدوق حسن الحديث
👤←👥هلال بن يساف الأشجعي، أبو الحسن
Newهلال بن يساف الأشجعي ← فروة بن نوفل الأشجعي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← هلال بن يساف الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6895 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6895
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی برے عمل کا سرزد ہوجانا اور اس طرح کسی اچھے اور نیک عمل کا رہ جانا،
دونوں ایسی چیزیں ہیں،
جن کے شر سے ہمیں پناہ مانگنی چاہیے،
لیکن آپ چونکہ اللہ کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے،
اس لیے سب سے زیادہ خشیت سے متصف تھے،
اس لیے آپ اچھے سے اچھے عمل کرنے اور برے اور گندے اعمال سے دامن بچانے کے باوجودیہ سمجھتے تھے کہ شاید کوئی نیک عمل جو مجھے کرنا چاہیے تھا،
میں وہ نہ کر سکا ہوں اور جو عمل میں نے کیے ہیں،
شاید وہ اس حد تک نہ پہنچ سکے ہوں،
جیسے وہ کرنے چاہیے تھے،
نیز آپ ہمارے لیے نمونہ عمل تھے،
اگر آپ یہ دعا نہ فرماتے تو ہمیں ان کا کیسے پتا چلتا اور ہمیں مانگنے کا اسلوب اور طریقہ کیسے آتا،
نیز ہم میں اچھے عمل کرنے اور برے اعمال کے بچنے سے عجب و غرور اور نیکی و پاکدامنی کا پندار پیداہو سکتا ہے،
جو انتہائی قبیح جرم ہے،
اس لیے ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6895]