صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب سؤال اليهود النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح وقوله تعالى: {يسالونك عن الروح} الآية:
باب: یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو وحی الٰہی کے مطابق جواب۔
ترقیم عبدالباقی: 2794 ترقیم شاملہ: -- 7061
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.
ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبداللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں میں (کھجور کی) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے (چلے جا رہے) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انہوں نے اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق «وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» ”اور تمہیں علم سے بہت کم دیا گیا ہے“ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7061]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں کھجور کی چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تھے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، اور اس روایت میں ہے: ﴿وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 85] ”تمھیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 7061 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود