الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب بيان صفة مني الرجل والمراة وان الولد مخلوق من مائهما:
باب: مرد اور عورت کی منی کی خصوصیات اور یہ کہ بچہ ان دونوں کے پانی سے پیدا ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 315 ترقیم شاملہ: -- 717
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ، وَقَالَ: أَذْكَرَ، وَآنَثَ، وَلَمْ يَقُلْ: أَذْكَرَا، وَآنَثَا.
یحییٰ بن حسان نے ہمیں خبر دی کہ ہمیں معاویہ بن سلام نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح حدیث سنائی، سوائے اس کے کہ (یحییٰ نے) قائماً (کھڑا تھا) کے بجائے قاعداً (بیٹھا تھا) کہا اور (زیادۃ کبدالنون کے بجائے) زائدۃ کبد النون کہا (معنی ایک ہی ہے) اور انہوں نے اذکر و آنت (اس کے ہاں بیٹا اور بیٹی کی ولادت ہوتی ہے) کے الفاظ کہے، اور اذکر و آنثا (ان دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور ان دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 717]
یہی روایت مجھے عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی رحمہ اللہ نے یحییٰ بن حسان رحمہ اللہ کے واسطہ سے معاویہ بن سلام رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے اس طرح سنائی، صرف اتنا فرق ہے کہ اوپر والی روایت میں «قائماً» (کھڑا تھا) ہے اور اس میں «قاعداً» (بیٹھا تھا) اوپر لفظ (زیادہ) اور یہاں «زائدة» «أذكرا» اور «آنثا» کی جگہ «ذكر» اور «آنث» ہے، معنی ایک ہی ہے۔ «أذكرا»، «أذكر» مذکر ہونا۔ «آنثا»، «آنث» مونث ہونا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 717]
ترقیم فوادعبدالباقی: 315
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاوية بن سلام الحبشي، أبو سلام | ثقة | |
👤←👥يحيى بن حسان البكري، أبو زكريا يحيى بن حسان البكري ← معاوية بن سلام الحبشي | ثقة إمام | |
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ← يحيى بن حسان البكري | ثقة فاضل متقن حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 717 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 717
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
اگر سائل کی نیت مسئلہ کی حقیقت کو سمجھنا ہو،
محض سوال برائے سوال یا مقصد برآری نہ ہو تو بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی جیسا کہ یہودی سوالات کے نتیجہ میں اصل حقیقت کو سمجھ گیا لیکن اگر نیت میں فتور ہو تو پھر سمجھ نہیں آتی کوئی نہ کوئی راہ فرار تلاش کر لی جاتی ہے جیسا کہ اس حدیث میں صریح الفاظ میں کہ:
(ما ليعلم بشئي منه،
حتي آتاني الله به)
مجهے سوالات كے وقت ان كے جوابات معلوم نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے بتا دیے۔
جس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم الغیب نہیں ہے ہاں ضرورت کی ہر چیز سے موقع اور محل پر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔
لیکن بعض فضلاء اس کا معنی یہ کرتے ہیں میں ان کی طرف متوجہ نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان چیزوں کی طرف متوجہ کر دیا اگر مقصد سمجھا ہوتو اس معنوی تعریف کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
2۔
حساب وکتاب کے وقت موجودہ آسمان وزمین بدل جائیں گے اور ان کی جگہ نئے آسمان وزمین کا ظہور ہو گا۔
اور اس وقت لوگ پل صراط کے قریب کھڑے ہوں گے اس لیے قرب کی بناء پر بعض حدیثوں میں (عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ)
یا (عَلَى مَتْنِ جَهَنَّمَ)
کے الفاظ آئے ہیں۔
3۔
پانی کا رحم میں پہلے بھیجنا،
تذکیر وتانیث کا سبب بنتا ہے،
اورغلبہ وکثرت،
مشابہت کا۔
4۔
فقراء ومہاجرین کو جنت میں پہلے جانے کا شرف حاصل ہو گا،
حالانکہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اغنیاء درجہ اور مرتبہ میں ان سے بلند وبالا اور افضل ہیں،
مقصد صرف یہ ہے کہ جن دیندار اور مومن لوگوں کے پاس مال ودولت کم ہے ان کے حساب وکتاب پر وقت کم لگے گا،
اور اس سے جلد فارغ ہو جائیں گے۔
فوائد ومسائل:
1۔
اگر سائل کی نیت مسئلہ کی حقیقت کو سمجھنا ہو،
محض سوال برائے سوال یا مقصد برآری نہ ہو تو بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی جیسا کہ یہودی سوالات کے نتیجہ میں اصل حقیقت کو سمجھ گیا لیکن اگر نیت میں فتور ہو تو پھر سمجھ نہیں آتی کوئی نہ کوئی راہ فرار تلاش کر لی جاتی ہے جیسا کہ اس حدیث میں صریح الفاظ میں کہ:
(ما ليعلم بشئي منه،
حتي آتاني الله به)
مجهے سوالات كے وقت ان كے جوابات معلوم نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے بتا دیے۔
جس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم الغیب نہیں ہے ہاں ضرورت کی ہر چیز سے موقع اور محل پر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔
لیکن بعض فضلاء اس کا معنی یہ کرتے ہیں میں ان کی طرف متوجہ نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان چیزوں کی طرف متوجہ کر دیا اگر مقصد سمجھا ہوتو اس معنوی تعریف کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
2۔
حساب وکتاب کے وقت موجودہ آسمان وزمین بدل جائیں گے اور ان کی جگہ نئے آسمان وزمین کا ظہور ہو گا۔
اور اس وقت لوگ پل صراط کے قریب کھڑے ہوں گے اس لیے قرب کی بناء پر بعض حدیثوں میں (عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ)
یا (عَلَى مَتْنِ جَهَنَّمَ)
کے الفاظ آئے ہیں۔
3۔
پانی کا رحم میں پہلے بھیجنا،
تذکیر وتانیث کا سبب بنتا ہے،
اورغلبہ وکثرت،
مشابہت کا۔
4۔
فقراء ومہاجرین کو جنت میں پہلے جانے کا شرف حاصل ہو گا،
حالانکہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اغنیاء درجہ اور مرتبہ میں ان سے بلند وبالا اور افضل ہیں،
مقصد صرف یہ ہے کہ جن دیندار اور مومن لوگوں کے پاس مال ودولت کم ہے ان کے حساب وکتاب پر وقت کم لگے گا،
اور اس سے جلد فارغ ہو جائیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 717]
يحيى بن حسان البكري ← معاوية بن سلام الحبشي