🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب إخبار النبي صلى الله عليه وسلم فيما يكون إلى قيام الساعة:
باب: قیام قیامت تک پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2892 ترقیم شاملہ: -- 7267
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ، فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا ".
علباء بن احمر نے کہا: حضرت ابوزید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا، آپ (منبر سے) اترے، ہمیں نماز پڑھائی، پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور (آگے) خطبہ ارشاد فرمایا: یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، پھر آپ اترے، نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والا تھا (سب) ہمیں بتا دیا، ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یاداشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7267]
حضرت ابو زید یعنی عمرو بن خطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبرچڑھ کر ہمیں خطاب فرمایا، حتی کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے اتر کر نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھ کر ہمیں خطاب فرمایا، حتی کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ نے اتر کر نماز پڑھائی،پھر آپ منبر پر تشریف فر ہوئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتی، کہ سورج غروب ہو گیا چنانچہ آپ نے ہمیں ان باتوں سے آگاہ فرمایا، جو ہو چکی تھیں اور جو ہونے والی تھیں سو ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جس نے زیادہ یاد رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2892
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن أخطب الأنصاري، أبو زيدصحابي
👤←👥علباء بن أحمر اليشكري
Newعلباء بن أحمر اليشكري ← عمرو بن أخطب الأنصاري
ثقة
👤←👥عزرة بن ثابت الأنصاري
Newعزرة بن ثابت الأنصاري ← علباء بن أحمر اليشكري
ثقة
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← عزرة بن ثابت الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد
Newالحجاج بن الشاعر ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← الحجاج بن الشاعر
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7267 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7267
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کبھی کبھار طویل خطاب بھی کیا جاسکتا ہے،
کیونکہ آپ نے دن بھر میں صرف نمازوں کے لیے وقفہ فرمایا اور دنیا میں پیش آنے والے تمام اہم واقعات سے (جوہو چکے تھے اور جو ہونے تھے)
آگاہ فرمایا،
جو زیادہ عالم تھے،
انہوں نے ان کو زیادہ یاد رکھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7267]