صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب في الفتنة التي تموج كموج البحر:
باب: سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2893 ترقیم شاملہ: -- 7271
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ جُنْدُبٌ : جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ، فَقُلْتُ: لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَاءٌ؟، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، إنه لحديث رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ، قُلْتُ: " بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي، ثُمَّ قُلْتُ: مَا هَذَا الْغَضَبُ؟، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ، فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو (وہاں) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا: آج یہاں بہت خونریزی ہو گی۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: واللہ! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔ میں نے جواب میں کہا: آج تم میرے لیے آج کے بدترین ساتھی (ثابت ہوئے) ہو۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کر رہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟ پھر میں نے کہا: یہ غصہ کیسا؟ چنانچہ میں (ٹھیک طرح سے) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7271]
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں واقعہ جرعہ کے دن آیا تو وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا چنانچہ میں نے کہا، آج یہاں خون ریزی ہو گی تو اس آدمی نے کہا، ہر گز نہیں اللہ کی قسم! میں نے کہا، کیوں نہیں اللہ کی قسم!اس نے کہا، ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں نے کہا، ضرور ہو گی اللہ کی قسم!اس نے کہا، ہر گز نہیں اللہ کی قسم! کیونکہ آپ کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے سنائی ہے، میں نے کہا، آپ آج کے میرے برے ہم نشین ہیں، آپ سن رہیں ہیں۔ میں آپ کی ایسی چیز میں مخالفت کر رہا ہوں جو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکے ہیں، اس کے باوجود آپ مجھے روکتے نہیں ہیں؟ پھر میں نے دل میں کہا اس غصہ کا کیا فائدہ؟ اس لیے میں ان سے پوچھنے کے لیے ان کی طرف بڑھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7271]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2893
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله جندب بن عبد الله البجلي ← حذيفة بن اليمان العبسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← جندب بن عبد الله البجلي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ معاذ بن معاذ العنبري ← عبد الله بن عون المزني | ثقة متقن | |
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله محمد بن حاتم السمين ← معاذ بن معاذ العنبري | صدوق ربما وهم وكان فاضلا | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن حاتم السمين | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7271 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7271
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
يوم الجرعة سے مراد وہ دن ہے،
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر ایک آدمی کو گورنر مقرر کر کے بھیجا تو لوگ،
کوفہ کے قریب جگہ،
جرعہ تک پہنچ گئے کہ یہ گورنر ہمیں قبول نہیں ہے،
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہماری درخواست یہ ہے کہ وہ ہم پر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کریں،
اس بنا پر،
حضرت جندب رضی اللہ عنہ کو خطرہ محسوس ہوا کہ یہاں باہمی جنگ و جدل ہوگا،
جس سے خون ریزی ہوگی،
کیونکہ اہل کوفہ بہت ضدی لوگ تھے،
اپنی بات پر اڑ جاتے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ حضرت عثمان حلیم اور بردبار ہیں،
اس لیے خون ریزی نہیں ہوگی،
کیونکہ حضرت حذیفہ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے یہ سمجھتے تھے کہ خون ریزی کا دروازہ حضرت عثمان کی شہادت سے کھلے گا اور حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے غیر شعوری اور لاعلمی کی صورت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کو پسند نہیں کیا،
اس لیے حضرت حذیفہ کو نہ پہچانتے ہوئے،
ان پر ناراضی کا اظہار کیا۔
فوائد ومسائل:
يوم الجرعة سے مراد وہ دن ہے،
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر ایک آدمی کو گورنر مقرر کر کے بھیجا تو لوگ،
کوفہ کے قریب جگہ،
جرعہ تک پہنچ گئے کہ یہ گورنر ہمیں قبول نہیں ہے،
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہماری درخواست یہ ہے کہ وہ ہم پر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کریں،
اس بنا پر،
حضرت جندب رضی اللہ عنہ کو خطرہ محسوس ہوا کہ یہاں باہمی جنگ و جدل ہوگا،
جس سے خون ریزی ہوگی،
کیونکہ اہل کوفہ بہت ضدی لوگ تھے،
اپنی بات پر اڑ جاتے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ حضرت عثمان حلیم اور بردبار ہیں،
اس لیے خون ریزی نہیں ہوگی،
کیونکہ حضرت حذیفہ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے یہ سمجھتے تھے کہ خون ریزی کا دروازہ حضرت عثمان کی شہادت سے کھلے گا اور حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے غیر شعوری اور لاعلمی کی صورت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کو پسند نہیں کیا،
اس لیے حضرت حذیفہ کو نہ پہچانتے ہوئے،
ان پر ناراضی کا اظہار کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7271]
جندب بن عبد الله البجلي ← حذيفة بن اليمان العبسي